تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 70
اسی طرح حضرت داؤد علیہ ا لسلام فرماتے ہیں۔’’ اُن لوگوں سے اے خداوند جو تیرے ہاتھ میں دنیا کے لوگوں سے جن کا بخرہ اِسی زندگانی میں ہے اور جن کے پیٹ تو اپنی نہانی چیزوں سے بھرتا ہےان کی اولاد بھی سیر ہوتی اور وَے اپنی باقی دولت اپنے با ل بچوںکے لئے چھوڑ جاتے ہیں۔پرمیں جو ہوں صداقت میں تیرا مُنہ دیکھوں گا اور جب میں تیری صورت پر ہو کے جاگوں گا تو میں سیر ہوؤں گا۔‘‘ ( زبور باب۱۷ آیت ۱۴و۱۵) ان حوالوں سے صاف ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام بعث بعد الموت کے قائل تھے اور تورات میں اس کا ذکر موجود ہے۔حضرت داؤد علیہ ا لسلام بھی اس کے قائل تھے اور زبور میں اس کا ذکر موجود ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عہدنامہ قدیم میں بعث بعد الموت پر اس قدر زور نہیں دیا گیا جیسا کہ زرتشتی مذہب یا اسلام میں دیا گیا ہے یا ہندو مذہب میں دیا گیا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی لوگ بہت ہی دنیادار تھے۔جب تورات حوادثِ زمانہ سے مٹی اور یہودیوں نے پھر دوبارہ اُس کو جمع کیا تو انہوں نے تعہد کر کے اُن پیشگوئیوں کو تو جمع کر لیا جو دُنیوی ترقی کے متعلق تھیں لیکن اُن امور کی چنداں پر وانہ کی جن سے اُن کو زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔اس طرح کئی حِصّے رہ گئے جن میں سے ایک بعث بعد الموت کا بھی حصّہ تھا مگر باوجود اس کے جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے اب بھی بعث بعد الموت کا ذکر تورات اور دوسرے انبیاء کے صحیفوں میں پایا جاتا ہے۔کیا موسیٰ علیہ السلام کا سؤر کو حرام قرار دینا مصری تعلیم کے زیراثر تھا؟ پانچویں دلیل یہ دی گئی ہے کہ سؤر بنی اسرائیل میں حرام ہے اور یہی بات مصری تعلیم میں پائی جاتی ہے اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ یہ استدلال ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔یہ خیال کہ مصری لوگوں میں سؤر حرام تھا درست نہیں۔جو کچھ مصری تعلیم کے متعلق ہمیں معلوم ہوتا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ مصری لوگ سؤر کے گوشت کو زیادہ استعمال نہیں کرتے تھے لیکن اس کی حرمت کا ثبوت نہیں ملتا۔( انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ Swine a scared animalبحوالہ کتاب ایجپٹ (EGYPT) صفحہ ۴۴۱ مصنّفہ ارمن (ERMAN) بلکہ اس سے بھی زیادہ یہ بات ہے کہ مصر میں بعض جگہ پر سؤر پالے جاتے تھے چنانچہ انسائیکلو پیڈیا ببلیکا کے اِسی صفحہ پر رینی (RENNI) کے متعلق لکھا ہے کہ اُس کے مال میں تین سو سؤر بھی تھے اور یہ رینی الکاب (EL-KAB)کے مندر کے دیوماکاکاہن تھا اور ہیروڈوٹس (HERODOTUS) لکھتا ہے کہ سی لین ( SALENE)اور ڈایونیسس (DIONYSUS)یعنی اوسی رس(Osiris)کے ناموں پر سؤروں کی قربانی کی جاتی تھی اسی طرح پاہیری (PAHERI)جو شاہانِ مصری کے اٹھارویں حاکم خاندان کا بادشاہ تھا اس کی