تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 60
(HISTORY OF EGYPT)میں درج کیا ہے اور وہ یہ ہے’’ اے یکّہ و تنہا خدا تیرے سوا اور کوئی نہیں۔‘‘ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ توحید کے خیال کا بانی وہی تھا اور اس نے ملک میں جبراً اس خیال کی اشاعت کی۔اس بادشاہ نے بُت خانے بھی تُڑوائے۔چونکہ ’’ عمون ہو تپ‘‘ مشرکانہ نام تھا اس لئے اس بادشاہ نے اپنا نام بھی ’’اختاتون‘‘ رکھا گویا اپنے آپ کو ’’ اتون‘‘ یعنی واحد خدا کی طرف منسوب کیا۔تیسری دلیل ان لوگوں کی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل میں ختنہ رائج کیا اور ختنہ کا دستور مصری ہے۔پس معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ مصری تھے۔چوتھی دلیل یہ دی گئی ہے کہ اِس اختاتون بادشاہ یا عمون ہو تپ بادشاہ کی تعلیم میں کہیں بعث بعد الموت کا ذکر نہیں کیا گیا ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی تعلیم میں کہیں بعث بعد الموت کا ذکر نہیں۔پانچویں دلیل یہ دی گئی ہے کہ مصری سؤرسے نفرت کرتے تھے ایسا ہی موسوی تعلیم میں سؤر سے نفرت دلائی گئی ہے۔چھٹی دلیل یہ دی گئی ہے کہ موسیٰ کی نسبت آتا ہے کہ وہ اچھی طرح اپنے خیالات ظاہر نہ کر سکتے تھے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مصری تھے۔اور عبرانی زبان اچھی طرح نہ بول سکتے تھے۔پس معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام مصری تھے اور ان لوگوں کے خیال میں وہ عمون ہو تپ المعروف بہ اختاتون بادشاہ کے متبعین میں سے تھے۔اختاتون کے بعد پھر دوبارہ مصری مذہب قائم ہو گیا اور شرک نے جگہ لے لی تب اُن میں اختاتون کی موحّدانہ تعلیم کے پھیلنے کا کوئی امکان نہ رہا تو حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے ایک غیر قوم یعنی بنی اسرائیل کی طرف توجہ کی جو مصریوں کے ظلم کا تختۂ مشق بنی ہوئی تھی اور عام مصری خیالات کو اپنی منافرت کی وجہ سے چھوڑنے پر آمادہ کی جا سکتی تھی۔اسرائیلیوں نے اس وجہ سے کہ وہ موسیٰؑ مصری کے خیالات کو مان کر مصری قوم کے خیالات کی تردید کرنے والے ہو جاتے تھے جو اُن کی دشمن تھی جلدی سے اس دین کو قبول کر لیا اور جب اس دین کو قبول کرنے کی وجہ سے مصر میں ان کے لئے کوئی جگہ نہ رہی تو حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے ساتھ انہوں نے اس ملک سے ہجرت کی اور کنعان کی طرف آ گئے۔اب میں ان چھ دلیلوںکا جو پیش کی جاتی ہیں مختصراً جواب دیتا ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کسی مصری قوم میں سے ثابت کرنے کے دلائل کا ردّ پہلی دلیل یہ دی گئی ہے کہ موسیٰ ؑ کا نام مصری ہے اس لئے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام مصری ہیں۔یہ دلیل نہایت ہی مضحکہ خیز ہے۔بنی اسرائیل مصر میں رہتے تھے اور ادنیٰ حیثیت میں رہتے تھے اس لئے لازمی طور پر انہیں مصری تہذیب اور مصری