تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 59
پس قوم سے مراد اس صورت میں بھی بنی اسرائیل ہی بنتے ہیں۔مگر ایک آیت قرآن کریم میں ایسی ہے جو قوم کے لفظ کو بالکل واضح کر دیتی ہے۔اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ(یونس :۸۴) حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے۔اس جگہ قوم سے مراد بہر حال بنی اسرائیل ہی ہو سکتے ہیں۔کیونکہ جب یہ فرمایا کہ ان کی قوم کے تھوڑے آدمی اُن پر ایمان لائے تھے۔تو قوم سے مراد مومن نہیں ہو سکتے بلکہ قوم سے مراد نسلی قوم ہی لی جا سکتی ہے۔نئے محققین کی اس بات کو ثابت کرنے کی چھ دلیلیں کہ حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل میں سے نہ تھے آج کل کے نئے محقق اِس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے نہیں تھے بلکہ وہ کسی مصری قوم میں سے تھے اور وہ اِس کے مندرجہ ذیل دلائل دیتے ہیں:۔اوّل موسیٰ کا نام مصری زبان میں ہے۔چنانچہ مصری زبان میں ’’ مَوسِے‘‘ بچے کو کہتے ہیں۔بریسٹڈ اپنی کتاب ’’ ڈان آف کانَشنس‘‘ میں لکھتا ہے کہ مصریوں میں ‘‘ آمن موسٰے‘‘ اور ’’ پٹا موسٰے‘‘ قسم کے نام پائے جاتے ہیں جن کے معنے ہیں۔امون ( ایک مصری دیوتا) کا بچہ۔پٹا( ایک مصری دیوتا) کا بچہ۔پروفیسرسِگْمَنڈ فَرَائِیڈ اپنی کتاب ’’ مَوْزِزْ اَینڈ مَانوتھی اِزم‘‘۔Moses and Monotheism میں لکھتے ہیں کہ ان ناموں کے علاوہ مصری بادشاہوں کے نام بھی اس رنگ کے پائے جاتے ہیں۔جیسے ’’ آہ موسے‘‘۔’’ تُھٹ موسے‘‘۔’’راموسے‘‘۔صفحہ۱۴۔یہ ’’ راموسے‘‘ وہی ہے جس کے نام کو بائبل میں ’’ رعمسیسں لِکھا گیا ہے۔را سورج کا دیوتا تھا۔پس ’’راموسے‘‘ کے معنے ہوئے۔سورج دیوتا کا دیا ہوا بیٹا۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’ موسٰے‘‘ کے ساتھ جو نام تھا وہ گر گیا اور ’’ موسیٰ‘‘ خالی موسیٰ ؑ کے نام سے مشہور ہو گیا۔دوسری دلیل ان لوگوں کی یہ ہے کہ توحید کنعانی قبائل میں نہیں پائی جاتی۔توحید کا عقیدہ مصر کے ایک بادشاہ نے ایجاد کیا تھا۔اس بادشاہ کا نام’’ عمون ہو تپ چہارم ‘‘ بتایا جاتا ہے۔اس بادشاہ نے ایک خدا کی جس کا نام وہ ’’اتون‘‘بتاتا تھا پرستش کی اور لوگوں سے کروائی۔اتون کا لفظ پرانی کتب میں سورج دیوتا کے لئے استعمال ہوتا تھا۔بیان کیا جاتا ہے کہ ہلیو پولس کے مقام پر سورج دیوتا کا ایک بڑا مندر تھا جس میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی۔اس مندر کے ساتھ تعلق رکھنے والے بہت سے پُجاری فلسفیانہ خیالات کے ہوئے ہیں۔انہوں نے آہستہ آہستہ سورج دیوتا کو ایک مادی دیوتا سے اخلاقی دیوتا کی شکل میں بدلنا شروع کر دیا۔اسی تصوّر کو ’’ عمون ہو تپ ‘‘ نے واحدخدا کے تصوّر کا جامہ پہنایا اور مصر میں اس کو رائج کیا۔اُس کا ایک فقرہ نقل کیا جاتا ہے جسے بریسٹڈنے اپنی تاریخ مصر