تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 58

اِھْتَدٰی کے ایک معنے سب سے آگے ہو جانے کے بھی ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں اِھْتَدَی الْفَرَسُ الْخَیْلَ صَارَ فِیْ اَوَائِلَھَاکہ فلاں گھوڑا باقی قافلہ کے گھوڑوں کے آگے آگے چلا ( اقرب) پس تَھْتَدُوْنَ کے معنے ہدایت پانے کے علاوہ یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ تا تم سب لوگوں سے آگے نکل جاؤ۔ان کے پیش رَو ہو جاؤ۔تفسیر۔آیت وَاِذْ اٰتَیْنَا … الخ میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور بنی اسرائیل کے فعل کے تقابل کی طرف اشارہ اس آیت میں ضمنی طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان چالیس راتوں میں جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔کیا کچھ دیا گیا تھا اور اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہم تو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے اتنا کام کر رہے تھے اور ان کی ترقی کے سامان پیدا کر رہے تھے۔اور یہ لوگ ایک زندہ خدا اور محسن خدا کو چھوڑ کر ایک بچھڑے کی پرستش میں مشغول تھے۔یہ تقابل اﷲ تعالیٰ کے فعل کا اور بنی اسرائیل کے فعل کا بنی اسرائیل کے جرم کو ایسا واضح کر دیتا ہے کہ کوئی عقلمند اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ ہم تمہاری ہدایت کے سامان کر رہے تھے اور تم اپنی گمراہی کے سامان کر رہے تھے۔کتاب اور فرقان جو اس پہاڑ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دئے گئے۔ان کی غرض تو یہ تھی کہ وہ اجمالی ایمان جو بنی اسرائیل کو حاصل تھا اسے تفصیلی ایمان سے بدل دیا جائے۔مگر بنی اسرائیل نے ان ایام میں اس اجمالی ایمان کو بھی کھو دیا۔اور شرک میں مبتلا ہو گئے۔حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام اِس آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام پہلی دفعہ آیا ہے اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس جگہ بعض امور بیان کر دینے ضروری ہیں۔حضرت موسیٰ ؑکے بنی اسرائیل میں سے ہونے کا ثبوت قرآن کریم سے قرآنِ کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے تھے۔اور بنی اسرائیل کے سلسلہ نبوت کی پہلی کڑی تھے۔جس کی آخری کڑی کے طور پر حضرت عیسٰی علیہ السلام ظاہر ہوئے۔سورہ اعراف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرعون کے ساتھیوں نے کہا۔اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ (الاعراف :۱۲۸) اے فرعون! کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ ملک میں فساد کریں۔اِسی طرح ایک درجن سے بھی زیادہ مواقع پر قرآن کریم میں بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم قرار دیا گیا ہے۔گو اس کی یہ تاویل بھی ہو سکتی ہے کہ قوم سے ان کے ماننے والے لوگ مراد لئے جائیں لیکن قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔پس آپ کو ماننے والے بھی سوائے شاذونادر کے بنی اسرائیل ہی ہوںگے