تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 55

فُرْقَانًا اَيْ فَصَلَ اِبْعَاضَھُمَا یعنی دو چیزوں کے حصوں کو جدا جدا کر دیا اور جب فَرَقَ لِفُـلَانٍ اَمْرٌ اَوْ رَاْیٌ کہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بَیَّنَ وَاتَّضَحَ فلاں کے لئے اس کی رائے اور معاملہ کی حقیقت واضح اور اچھی طرح ظاہر ہو گئی۔نیز کہتے ہیں۔فَرَقَ لَہٗ عَنِ الشَّیْ ءِ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ بَیَّنَہٗ اس کے سامنے کسی بات کو اچھی طرح بیان کر دیا۔علاوہ ازیں اَلْفُرْقَانُ کے معنے ہیں اَلقُرْاٰنُ قرآن مجید۔کُلُّ مَا فُرِقَ بِہٖ بَیْنَ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ ہر وہ بات جس سے حق اور باطل کے درمیان تمیز ہو جائے۔اَلنَّصْرُ۔مدد۔اَلْبُرْھَانُ۔دلیل۔اَلصُّبْحُ اَوِ السَّحَرُ صبح یا سحری کا وقت۔اِنْفِرَاقُ الْبَحْرِ سمندر کا دو ٹکڑے ہونا۔اَلتَّوْرَا ۃُ تورات کو بھی فرقان کہتے ہیں۔نیز بدر کی جنگ کو بھی یَوْمُ الْفُرْقَانِ کے نام سے موسوم کرتے ہیں (اقرب) فُرْقَان کے اصل معنے توکُلُّ مَا فُرِقَ بِہٖ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ کے ہیں۔لیکن لغت والوں نے اس لفظ کے ذیل میں قرآن مجید۔تورات اور سمندر کے دو ٹکڑے ہونے کے بھی معنے کئے ہیں۔یہ استنباطی معنے ہیں نہ کہ لغوی۔کیونکہ مذکورہ اشیاء کے ذریعہ سے مختلف مذاہب والوں کے نزدیک حق و باطل میں تمیز ہو گئی۔اس لئےان کو فرقان کہا گیا۔تَھْتَدُوْنَ۔اِھْتَدٰی سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔اور اِھْتَدٰی ھَدٰی سے باب اِفتعال ہے۔ھَدَاہُ اِلَی الطَّرِیْقِ بَیَّنَہٗ لَہٗ اسے رستہ بتایا۔ھَدَی العُرُوْسَ اِلٰی بَعْلِہَا زَفَّھَا اِلَیْہِ دُلہن کو اس کے خاوند تک لے گیا۔ھَدَی فُلَانًا: تَقَدَّمَہٗ اس کے آگے آگے چلا۔کہتے ہیں جَاءَ تِ الْـخَیْلُ یَھْدِیْہَا فَرَسٌ اَشْقَرُ اَیْ یَتَقَدَّ مُہَا۔گھوڑے آئے جبکہ ان کے آگے آگے ایک سرخ رنگ کا گھوڑا دوڑتا چلا آ رہا تھا۔(اقرب) پس ھَدٰی کے تین معنی ہیں راستہ دکھانا۔راستہ تک پہنچانا اور آگے آگے چل کر منزلِ مقصود تک لئے جانا۔قرآن کریم میں بھی ھَدَایَۃ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ایک معنی اس کے کام کی طاقتیں پیدا کر کے کام پر لگا دینے کے ہیں۔مثلاً قرآن کریم میں آتا ہے اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى (طٰہٰ :۵۱) یعنی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ نے اس کے مناسب حال کچھ طاقتیں پیدا کیں پھر اسے اس کے مفوضہ کام پر لگا دیا۔دوسرے معنی ہدایت کے قرآن کریم سے ہدایت کی طرف بلانے کے معلوم ہوتے ہیں۔مثلاً فرمایا۔وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا (السَّجدة :۲۵) اور ہم نے ان میں سے امام بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کو تورات کی طرف بلاتے تھے۔تیسرے معنی ہدایت کے قرآن کریم سے چلاتے لئے آنے کے ہیں جیسے کہ جنتیوں کی نسبت آتا ہے کہ وہ کہیں گے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِهٰذَا (الاعراف:۴۴) سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو ہمیں جنت کی طرف چلاتا لایا اور جس نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا۔اسی طرح ہدایت کے معنی سیدھے راستہ کے ساتھ موانست پیدا