تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 56

کرنے کے بھی ہوتے ہیں قرآن کریم میں ہے۔وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ(التّغابن :۱۲) جو اللہ پر کامل ایمان لاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ہدایت سے موانست پیدا کر دیتا ہے اور اچھی باتوں سے اسے رغبت ہو جاتی ہے۔اس آیت میں راہ دکھانے کے معنی نہیں ہو سکتے کیونکہ جو ایمان لاتا ہے اسے راہ تو پہلے ہی مل چکا۔ہدایت کے معنی کامیابی کے بھی قرآن کریم میں آتے ہیں سورۂ نور میں منافقوں کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ کہتے تو یہ ہیں کہ انہیں جنگ کا حکم دیا جائے تو وہ ضرور اس کے لئے نکل کھڑے ہوں گے لیکن عمل ان کا کمزور ہے۔فرماتا ہے قسمیں نہ کھائو عملاً اطاعت کرو۔کیونکہ اللہ تمہارے اعمال سے واقف ہے۔پھر فرماتا ہے اے رسول ! ان سے کہہ دے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔پھر اگر اس حکم کے باوجود تم پھر گئے تو رسول پر اس کی ذمہ واری ہے۔تم پر تمہاری۔اور یاد رکھو کہ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا (النّور: ۵۵) اگر تم رسول کی بات اس بارہ میں مان لو گے تو نقصان نہ ہو گا بلکہ تم کا میاب ہو جائوگے اور فتح پائو گے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے اَلَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى ( محمد :۱۸) جو لوگ اس ہدایت کو جو انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔اپنے نفس میں جذب کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اور ہدایت عطا کرتا ہے۔قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ ہدایت کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ اس کے بے انتہا مدارج ہیں۔ہدایت کے ایک درجہ سے اوپر دوسرا درجہ ہے۔اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے جاذب ہو جاتے ہیں انہیں ایک درجہ کے بعد دوسرے درجہ سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ھُدًی۔اَلرَّشَادُ۔سیدھے راستہ پر ہونا۔اَلْبَیَانُ بیان کرنا۔اَلدَّ لَالَۃُ۔کسی امر کی طرف رہبری کرنا (اقرب) اَلْھَدَایَةُ۔اَلدَّلَالَۃُ بِلُطْفٍ یعنی ہدایت (جو ھُدًی کاہم معنی دوسرا مصدر ہے) کے معنی محبت اور نرمی سے کسی امر کی طرف رہبری کرنے کے ہیں۔(مفردات)امام راغب کے نزدیک ہدایت کا لفظ قرآن کریم میں مندرجہ ذیل چار معنوں میں آتا ہے (۱) ہر عقل یا سمجھ یا ضروری جزوی ادراک کی طاقت رکھنے والی شے (جیسے حیوانات وغیرہ کہ اِدراکِ کامل ان کو حاصل نہیں ہوتا صرف جزوی یا سطحی اِدراک ایسے ضروری امو رکا جو ان کی حیات اور محدود عمل سے تعلق رکھتے ہیں ان کو حاصل ہوتا ہے) کو اس کی صلاحیت کے مطابق کام کا طریق بتانا۔اس کی مثال قرآن کریم میں یہ ہے۔رَبُّنَا اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى (طٰہٰ:۵۱) یعنی ہر چیز کو پیدا کر کے اس کی عقل یا سمجھ یا اس کے ضروری تقاضوں کے مطابق اسے رہنمائی کی (میرے نزدیک اس جگہ ھَدٰی کے معنے یہ ہیں کہ ہر شے میں مناسب قوتیں پیدا کر کے پھر انہیں کام پر لگا دیا کیونکہ صرف قوتوں کا موجود ہونا کافی نہیں ہوتا بلکہ انہیں ابتدائی حرکت دے کر کام پر لگانا ان کی حیات کے شروع کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔بچہ پیدا ہوتا ہے تو گو پیدائش سے پہلے آلاتِ تنفّس کامل طور پر موجود ہوتے ہیں مگر باہر نکلنے