تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 54
پھر آیت ۱۴ میں ہے۔’’ اِس پر حضرت موسیٰ ؑنے ان کے لئے دعا کی اور مطابق توریت تب خداوندنے اس بدی سے، جو چاہا تھا، کہ اپنے لوگوں سے کرے پچھتایا۔‘‘ یعنی انہیں سزا نہ دی بلکہ درگزر فرمایا۔(آیت ۱۱۔۱۴) عَفَوْنَا عَنْکُمْ سے مراد قومی سزا کی معافی ہے نہ کہ تمام قوم کی اِس جگہ عَفَوْنَا عَنْکُمْ سے مراد قومی سزا کی معافی ہے نہ کہ تمام قوم کی معافی۔قومی جرائم کی دو شقیں ہوتی ہیں۔ایک شق اُس کی تمام قوم سے بحیثیت مجموعی تعلق رکھتی ہے۔اور ایک شق اس کے افراد سے تعلق رکھتی ہے۔قومی جرائم میں کچھ اشخاص شرارت میں زیادہ حصہ لینے والے ہوتے ہیں۔کچھ کم حصہ لینے والے ہوتے ہیں۔کچھ لوگ حصہ تو نہیں لیتے مگر دل میں ساتھ ہوتے ہیں اور زبان سے بھی ساتھ دیتے ہیں۔کچھ لوگ زبان سے تو ساتھ نہیں دیتے مگر دل سے ساتھ ہوتے ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عمل میں بھی شامل ہو جاتے ہیں مگر دل میں مخالف ہوتے ہیں۔صرف بُزدلی کی وجہ سے اشتراک کر لیتے ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عمل میں شریک نہیں ہوتے صرف زبان سے تائید کر دیتے ہیں مگر دل سے اُس بدی کے مخالف ہوتے ہیں۔کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نہ عمل سے شامل ہوتے ہیں، نہ زبان سے شامل ہوتے ہیں، نہ دل سے شامل ہوتے ہیں لیکن وہ مقابلہ بھی نہیں کرتے خاموش ہوتے ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بدی کے خلاف اظہار ناراضگی بھی کر دیتے ہیں لیکن پوری کوشش اس کو روکنے کیلئے نہیں کرتے۔قومی سزا میں یہ سارے کے سارے شریک ہو جاتے ہیں لیکن جو سزا شخصی ہوتی ہے اس میں ہر ایک کے سلوک میں فرق کیا جاتا ہے۔اِس جگہ عَفَوْنَا عَنْكُمْ سے مراد قومی سزا ہی ہے۔یعنی اِس جرم کی بنی اسرائیل کو بحیثیت قوم جو سزا ملنی تھی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ روک دی گئی۔افراد کے شخصی جرم جس کا اِس میں ذکر نہیں۔جیسا کہ ایک آیت چھوڑ کر بعد کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شخصی طور پر جو لوگ بڑے مجرم تھے ان کو سزا دی گئی تھی۔لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ کی تشریح لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ یعنی یہ فضل ہم نے اس لئے کیا ہے تاکہ تم ہماری رحمت کے قدردان بن جاؤ اور تمہیں معلوم ہو جائے کہ اﷲ تعالیٰ کیسا رحیم ہے اور اس کی رحمت کی وسعت کو دیکھ کر تم بار بار اِس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔وَ اِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۰۰۵۴ اور( اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ کو کتاب (یعنی تورات) اور فرقان دیئے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔حَلّ لُغَات۔اَلْفُرْقَانَ۔فُرْقَانٌ در اصل فَرَقَ کا مصدر ہے۔چنانچہ کہتے ہیں فَرَقَ بَیْنَہُمَا