تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 556

بارہ میں مزید تشریح کے لئے دیکھیں تفسیر کبیر تفسیر سورہ مریم زیر آیت اِذِا انْتَبَذَ تْ مِنْ اَھْلِھَا مَکَانًا شَرْقِیًّا۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے تمہاری بات کیا ماننی ہے ان میں تو اس قدر تعصب پایا جاتاہے کہ ایک کتاب پر ایمان رکھتے ہوئے بھی ان کے قبلوں میں فرق ہے۔اور جب یہ آپس میں ایک شریعت رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی ضد میں دین کی شکل بدلتے جاتے ہیں تو انہوں نے تمہاری طرف کیا میلان رکھنا ہے۔وَ لَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر علم رکھنے کے بعد بھی تو ان کی گری ہوئی خواہشات کی پیروی کریگا تو تُو یقیناً ظالم ہو گا۔اس آیت پر بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی ممکن تھا کہ آپؐ ان کی خواہشات کی پیروی کر کے ظالم بن جاتے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ بعض جگہ بظاہر واحد مخاطب کی ضمیر استعمال کی جاتی ہے مگر اس سے ہر انسان مراد ہوتا ہے نہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔قرآن کریم میں اس کی مثال موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا (بنی اسرائیل :۲۴) یعنی اگر تمہارے ماں باپ میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو جائیں تو تم ان سے نرمی کا برتائو کرو اور انہیں اُف بھی نہ کہو۔اب اس آیت میں بھی واحد مخاطب کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس جگہ ہر انسان کو مخاطب کیا گیا ہے۔نہ کہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو۔اسی طرح اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ اے قرآن کریم کے پڑھنے والے اگر تو مخالفین اسلام کی گِری ہوئی خواہشات کی پیروی کریگا تو تُو ظالم بن جائے گا۔کیونکہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک یقینی علم نازل کر دیا ہے۔اگر تو اس سے فائدہ نہیں اُٹھائے گا اور اسے چھوڑ کر دوسروں کے پیچھے چلے گا تو تُو اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا۔ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماچکا ہے کہ وَمَا اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَھُمْ تو ان کے قبلہ کی کبھی پیروی نہیں کر سکتا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ اتنی وضاحت سے ایک بات فرما چکا ہے تو اسی آیت میں اس کے خلاف یہ کیونکر فرما سکتا ہے کہ اگر تو نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو تُو ظالموں میں سے سمجھا جائے گا۔پس اس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ عام مسلمان مراد ہیں۔چنانچہ آجکل ایسا ہی ہورہا ہے کہ مسلمان قرآن کریم کو چھوڑ کر دوسرے علوم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو کہ روزانہ بدلتے ہیں۔اور اس یقینی علم کو انہوں نے ترک کر دیا ہے۔جو قرآن کریم کی شکل میں ہے۔