تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 557

پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجسٹریٹ جب مقدمہ کا فیصلہ لکھواتا ہے تو بعض مقامات پر اس میں مجرم کے خطاب کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔مثلاً وہ کہتا ہے۔اس جرم میں تجھے اتنے ماہ قید کی سزا دی جاتی ہے اس پر تم کبھی نہیں دیکھو گے کہ فیصلہ کو قلمبند کرنے والا کلرک کھڑے ہو کرشور مچانے لگ جائے کہ مجھے یہ سزا کیوں دی گئی ہے۔اسی طرح یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک فیصلہ کا اعلان فرمایا ہے اور اس سے مراد صرف وہی شخص ہے جو اس فیصلہ کی خلاف ورزی کرے کوئی دوسرا شخص مراد نہیں ہو سکتا۔اسی طرح کبھی ایسا بھی ہو تا ہے کہ حکم دیتے وقت اپنے کسی قریبی کو مخاطب کرلیا جاتا ہے مگر مراد اس سے دوسرے لوگ ہوتے ہیں اور اس کو مخاطب اس لئے کیا جاتا ہے کہ اگر میر ا قریب ترین عزیز بھی ایسا کرے گا تو میں اُسے سزا دوںگا۔یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ قریبی ایسا کر سکتا ہے بلکہ اس سے جرم کی اہمیت بیان کرنا اور لوگوں کو ہوشیار کرنا مقصود ہوتا ہے۔اس جگہ بھی یہ مراد نہیں کہ ایسا کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ممکن تھا بلکہ آپؐ کو اس لئے مخاطب کیا گیا ہے کہ دوسرے لوگوں کو ہوشیار کیا جائے اور انہیں متنبہ کیا جائے کہ اگر کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی ایسا کرے گا تو اسے سزا ملے گی۔اور اس کا کچھ بھی لحاظ نہیں کیا جائے گا۔یہ بھی ہوشیار کرنے کا ایک طریق ہوتا ہے۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرے تو میں اس کے ہاتھ کاٹ دوں(بخاری کتاب الحدود باب کراھیۃ الشفاعۃ فی الحدّ۔۔۔)۔اب اس کا یہ مطلب نہیںتھا کہ حضرت فاطمہؓ بھی چوری کر سکتی تھیں۔بلکہ مطلب یہ تھا کہ دوسرے لوگ ہوشیار ہو جائیں۔اور انہیں پتا لگ جائے کہ قانون میں چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (سچائی) کو (اسی طرح) پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔وَ اِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۰۰۱۴۶ اور اُن میں سے کچھ لوگ یقیناً حق کو جان بوجھ کر چھپاتے ہیں۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل کتاب کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا جاتا ہے۔بیٹے کی پہچان ہمیشہ بیوی کی شہادت پر ہوتی ہے۔جب