تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 550
یہ اسلامی حکم ہے کہ مرد آگے ہوں اور عورتیں پیچھے۔تحویل قبلہ کی وجہ سے چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رُخ بدلنا پڑا اس لئے مردوں اور عورتوں کو بھی اپنی ترتیب بدلنی پڑی۔اور عورتیں مردوں کی جگہ چلی گئیں اور مرد عورتوں کی جگہ چلے گئے۔اس حدیث میں ایسی تفصیل موجود ہے جس کی بناپر ظہر میں حکم نازل ہونے کا خیال زیادہ صحیح قرار پاتا ہے۔یہ بھی لکھا ہے کہ اہل قبا کو دوسرے دن صبح کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ نماز کی جہت بدل گئی ہے۔اور وہ بھی اس وقت جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بخاری کتاب التفسیر باب قولہ وما جعلنا القبلۃ ) اسی سے میں یہ استدلال کرتا ہوں کہ اگر ایک میل کے فاصلہ پر بھی دوسرے دن اطلاع پہنچی تو براء بن عازب کو بھی عصر کی تعیین میں غلطی لگ سکتی ہے انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ عصر کے وقت تحویل قبلہ ہوئی ہے کیونکہ انہیں عصر کی نماز میں ہی شامل ہونے کا موقع ملا اور انہوں نے کسی سے دریافت بھی نہ کیا کہ تحویلِ قبلہ کب ہوئی ہے۔خود ہی خیال کر لیا کہ یہ پہلی نماز ہے جس میں تحویلِ قبلہ ہوئی ہے۔ان روایات میں بھی یہ کہیں ذکر نہیں آتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آکر بیت المقدس کی طرف منہ کیا تھا۔ورنہ اگر یہ بات درست ہوتی تو جو لوگ آپ کے مدینہ آنے سے پہلے وہاں آچکے تھے۔ان میں سے کسی کی تو روایت ملتی کہ وہ پہلے مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔حقیقت یہی ہے کہ آپ مکہ میں بھی بیت المقدس کی طرف منہ کیا کرتے تھے اور پھر مدینہ میں بھی سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف ہی منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے۔پس وہیری کا یہ اعتراض کہ محض یہود کو خوش کرنے کیلئے آپ نے مدینہ میں بیت المقدس کی طرف منہ کیا تھا اور جب یہ مقصد حاصل نہ ہوا تو پھر مکہ کی طرف منہ پھیر لیا بالکل غلط ہے۔صرف ایک روایت ایسی ہے جو بتاتی ہے کہ نعوذ باللہ یہود کو خوش کرنے کے لئے مدینہ آکر قبلہ بدلا گیا۔مگر اس روایت کے الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ وہ کسی بد باطن منافق یا یہود کی خود تراشیدہ روایت ہے۔یہ روایت ابودائود نے اپنی کتاب ناسخ میں حضرت ابن عباسؓ سے بیان کی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں کہ۔اَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْاٰنِ الْقِبْلَۃُ وَذٰلِکَ اَنَّ مُحَمَّدًا کَانَ یَسْتَقْبِلُ صَخْرَ ۃَ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ وَھِیَ قِبْلَۃُ الْیَھُوْدِ فَاسْتَقْبَلَھَا سَبْعَۃَ عَشَرَ شَھْرًا لِیُؤْمِنُوْا بِہٖ وَیَتَّبِعُوْہُ وَیَدْ عُوْا بِذٰلِکَ الْاُمِّیِّیْنَ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَـا تُوَ لُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (جامع البیان زیر آیت ھٰذا)۔یعنی قرآن کریم کا سب سے پہلا حکم جو منسوخ کیا گیا وہ قبلہ کے بارے میں تھا اور یہ کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) مدینہ میں تشریف لانے کے بعد صخرۂ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھا کرتے تھے جو یہود کا قبلہ تھا۔اور آپؐ نے اُس کی طرف سترہ مہینے تک منہ رکھا۔آپؐ کی بیت المقدس کو