تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 545

کہا۔خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت اُن کے لئے تھی۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ یہ پیشگوئی عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان مابہ النزاع بننے والی ہے اس لئے اس نے شروع سے ہی اس پیشگوئی میں ایسے الفاظ رکھ دیئے ہیں جن کو عیسائی اپنے اوپر چسپاں ہی نہیں کر سکتے۔عیسائیت کا سارا زور اس اصل پر ہے کہ شریعت لعنت ہے (گلتیوں باب ۳ آیت ۳)لیکن اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑی خبر ہی اس پیشگوئی میں یہ دی ہے کہ آنے والے موعود کے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت ہو گی۔پس جو قوم شریعت کو لعنت قرار دیتی ہے اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس پیشگوئی کو اپنے اوپر چسپاں کرے۔پھر اس پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ وہ دس۱۰ ہزار قدوسیوں کے ساتھ آئے گا۔مگر حضرت مسیح علیہ السلام کو دس ہزار چھوڑدس۱۰ قدّوس بھی نصیب نہ ہوئے۔ان کے صرف بارہ حواری تھے ان میں سے ایک نے تو ان کو پکڑوا دیا اور دوسروں کے متعلق انجیل میں لکھا ہے کہ جب دشمن حضرت مسیح علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے آئے تو وہ سارے کے سارے انہیں چھوڑ کر بھاگ گئے(متی باب ۲۶ آیت۵۶) صرف ایک حواری کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے تلوار نکال لی۔اور ایک شخص پر وار کر کے اس کا کان اُڑا دیا(متی باب۲۶ آیت۵۱) مگر یہ صرف ایک عارضی جوش کا نتیجہ تھا۔ورنہ اس کے بعد حواریوں نے جس ایمان کا مظاہرہ کیا اس کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے کارندے جب حضرت مسیح ؑ کو گرفتار کر کے سردار کاہن کے پاس لے گئے تو پطرس بھی ساتھ ساتھ چل پڑا۔وہاں ایک لونڈی نے اُسے دیکھ کر کہہ دیا کہ تو بھی مسیح کے ساتھ تھا اس پر اس نے سب کے سامنے انکار کیا اور کہا کہ میں نہیں جانتا تو کیا کہتی ہے پھر دوبارہ کسی لونڈی نے یہی بات دُہرائی تو اس نے قسم کھا کر پھر انکار کیا۔اور کہا کہ میں اس آدمی کو نہیں جانتا تھوڑی دیر کے بعد پھر ان لوگوں میں سے جو وہاں کھڑے تھے کسی نے کہہ دیا کہ تو بھی انہی لوگوں میں سے ہے جو اس کے ساتھ ہیں۔اور تیری بولی سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے اس پر اس نے مسیح ؑ پر لعنت ڈالی اور قسم کھا کر کہا کہ میں مسیح کو جانتا بھی نہیں(متی باب ۲۶ آیت۶۹ تا ۷۵) غرض دس ہزار چھوڑ دس قدّوس بھی حضرت مسیح ؑکو نہیں ملے۔صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے متعلق تاریخ یہ شہادت دیتی ہے کہ آپ کے ساتھ فتحِ مکہ کے موقع پر دس ہزار قدوسیوں کا لشکر تھا۔جو بڑے جاہ وجلال کے ساتھ مکہ میں داخل ہوا اور جس نے اپنی نیکی اور عفو اور اعلیٰ درجہ کے حسنِ سلوک سے مکہ والوں کے دل فتح کر لیے اور وہ کفر و شرک کو چھوڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو گئے۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ زیر عنوان فتح مکہ شرفہا اللہ تعالیٰ)