تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 540

الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ کہ یہ (تحویل قبلہ کا حکم)تیرے رب کی طرف سے (بھیجی ہوئی ایک ) صداقت ہے اور جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۴۵ اللہ اُس سے ہرگز بے خبر نہیں ہے۔حَلّ لُغَات۔فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ : وَلَّہُ الْاَمْرَ کے معنے ہیں جَعَلَہٗ وَالِیًا عَلَیْہِ اُسے فلاں پر مسلّط کردیا۔(اقرب) اور وَلَّیْتُ وَجْھِیْ کَذَا کے معنے ہیں اَقْبَلْتُ۔میں نے اس کی طرف اپنا منہ پھیرا۔(مفردات) تفسیر۔اس آیت کے متعلق بعض مفسرین روایات نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں آسمان کی طرف منہ اُٹھا اُٹھا کر دیکھا کرتے تھے کہ تحویلِ قبلہ کا حکم کب نازل ہوتا ہے۔(تفسیر ابنِ کثیر بر حاشیہ فتح البیان زیر آیت ھذا) یہ تو الگ بحث ہے کہ نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے سے کب روکا گیا۔لیکن اس غرض کے لئے آسمان کی طرف سر اُٹھا کر دیکھنا اپنی ذات میں ایسا امر ہے جسے عقل انسانی ایک لمحہ کے لئے بھی تسلیم نہیں کر سکتی۔اگر قبلہ کے علاوہ اور باتوں میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت ہوتی کہ آپ ان کے بارہ میں الٰہی حکم معلوم کرنے کے لئے آسمان کی طرف دیکھا کرتے تو ہم اس امر کو بھی مان لیتے کہ شاید نماز پڑھتے وقت آپ آسمان کی طرف دیکھ لیا کرتے ہوں۔مگر محض اس وجہ سے کہ قرآن کریم میں فِی السَّمَآءِکے الفاظ آ گئے ہیں ایک ایسے فعل کو صحیح تسلیم کرنا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عام طریق عمل کے بالکل خلاف تھا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہو سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک محاورہ ہے جسے نہ سمجھتے ہوئے یہ خیال کر لیا گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تحویلِ قبلہ کے بارہ میں آسمان کی طرف اپنی آنکھیں اُٹھا اُٹھاکر دیکھاکرتے تھے اور اس امر کے منتظر رہتے تھے کہ کب خدائی حکم نازل ہوتا ہے۔ہماری زبان میں بھی کہتے ہیں کہ’’ میری تونظر ہی اُدھر لگی ہوئی ہے۔‘‘ یا کہتے ہیں ’’میری توجہ تو فلاں امر کی طرف پھر گئی ہے۔‘‘ اور جب ہم یہ الفاظ کہتے ہیں تو ان کا ہرگز یہ مفہوم نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت ہم آنکھیں پھاڑپھاڑ کر کسی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَآءِکے بھی یہی معنے ہیں کہ ہم تیری توجہ کا بار بار آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں۔یعنی تیرے دل میں بار بار یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اس بارہ میں آسمان سے الہٰی حکم نازل ہو۔