تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 530
مذاہب اور دوسری اقوام کے لئے ایک گواہ کی طرح رہو۔یعنی جس طرح گواہ کی گواہی سے ثابت ہو تا ہے کہ حق کیا ہے اور کس کا ہے اسی طرح تم میں سے جو لوگ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر کے اس کے نیک اثرات کو اپنے اندر پیدا کریں گے وہ دوسری اقوام کے لئے جو ابھی تک قرآن کریم کی صداقت سے لذت آشنا نہیں بطور ایک شاہد کے ہوں گے۔یعنی زبان اور عمل دونوں سے وہ اس بات کا اعلان کرینگے کہ انہوں نے اس کے دعاوی کو سچ پایا۔اور لوگ اُن کی پاکیزہ زندگی اور آسمانی نصرت کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ سچا راستہ وہی ہے جس پر یہ لوگ چلتے ہیں اور پھر آخر میں بتایا کہ جس طرح ہم نے ان مسلمانوں کو جو قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں دوسری اقوام کے لئے شاہد بنایا ہے اسی طرح ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جماعت کے لئے اسلام کی سچائی کا شاہد بنایا ہے۔یعنی ان کے دل میں آپ کے معجزات اور نصرتِ الہٰی کو دیکھ کر اسلام کی صداقت کامل طور پر گھر کر جاتی ہے۔غرض اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے ایسا اس لئے کیا ہے تاکہ تمہارے ساتھ خدا تعالیٰ کا معجزانہ سلوک دیکھ کر اور تمہاری روحانیت اور تقویٰ کو دیکھ کر لوگ ہدایت پائیں اور دوسری طرف یہ رسول اسلام کی سچائی کا تمہارے سامنے ایک زندہ گواہ ہو یعنی اپنے معجزات اور نصرتِ الہٰی کی بارش سے۔گویا تم دنیا کے لئے اسلام کی صداقت کے گواہ ہو اور رسول تمہارے سامنے اسلام کی سچائی کا گواہ ہو۔اسی طرح اس کے ایک یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ رسول تم کو اسلام سکھائے اور تم دوسروں کو سکھاتے رہو۔دراصل اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کی امت بننے کا یہ طریق بتایا ہے کہ وہ شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ ہو۔یعنی تعلیم و تربیت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رکھے اور لوگوں کے ایمانوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتی رہے اسی لئے فرمایا کہ ہم نے تمہیں اُمَّۃً وَسَطًا بنایا ہے تاکہ تم لوگوں کو سکھائو اور اُن کے نگران بنو۔اور رسول کا کام ہے کہ وہ تمہیں سکھائے اور تمہاری کمزوریوں کو دور کرے۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح انسانی جسم میں تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد زائد فضلے جمع ہو جاتے ہیں جو کبھی قبض کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی اسہال کی صورت اختیار کر لیتے ہیں یا مکانوں اور چھتوں پر پانی کے نکاس کے راستے خراب ہو کر پانی جمع ہو جاتا اور چھتوں میں سوراخ ہونے لگتے ہیں اسی طرح قوموں پر بھی مختلف اوقات میں ایسے حالات وارد ہوتے رہتے ہیں اور جس طرح ایک زندہ انسان جسم کی کسی ایک کل کے درست ہونے سے اپنے تمام کام آپ ہی آپ نہیں چلا سکتا بلکہ صبح شام اُس کی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح قوموں کے اخلاق بھی آپ ہی آپ درست نہیں ہو جاتے بلکہ صبح شام ان کی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ