تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 531
فرد جس کی حیثیت قوم کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں اُس کی زندگی کے لئے تو ضروری سمجھا جاتا ہے کہ صبح شام نگرانی ہو۔روزانہ اس بات کو دیکھا جاتا ہے کہ آج صبح کیا پکائیں اور شام کو کیا پکائیں۔گرمی ہے تو باہر سوئیں یا سردی ہے تو اندر سوئیں۔ہوا ٹھنڈی چل رہی ہے تو سر کو ڈھانک کر رکھیں یا خشکی کا دورد ورہ ہے تو سر کو کھلا رکھیں۔دھوپ نکلی ہوئی ہے تو سایہ میں چلیں یا بارش برس رہی ہے تو چھت کے نیچے ٹھہریں یا حبس ہے تو باہر نکل آئیں۔غرض صبح شام ان باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں دن بھر میں انسان اپنے جسم کے متعلق پندرہ بیس دفعہ ضرور سوچتا ہے کہ اُسے اب کس چیز کی ضرورت ہے۔کبھی خیال کرتا ہے کہ سونے کی ضرورت ہے کبھی خیال کرتا ہے کہ لیٹنے کی ضرورت ہے۔کبھی خیال کرتا ہے کہ ورزش کی ضرورت ہے کبھی خیال کرتا ہے کہ سیر کی ضرورت ہے کبھی خیال کرتا ہے کہ نہانے کی ضرورت ہے۔غرض ایک دو درجن دفعہ ضرور وہ اپنے افعال کے متعلق غور کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ مجھے اپنے جسم کی درستی کے لئے کیا کرنا چاہیے لیکن قوم کی درستی کے متعلق وہ کبھی نہیں سوچتا بلکہ سمجھتا ہے کہ وہ آپ ہی آپ درست ہو جائےگی۔اور اگر وہ کوئی غلط قدم اُٹھا لیتی ہے تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے آپ پر الزام لگائے کہ میں نے قومی ذمہ واریوں کو ادا نہیں کیا وہ سمجھتا ہے کہ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ قوم پر میں اپنے غصّے کا اظہار کر دوں اور عملی طور پر اس کی اصلاح کے لئے کچھ نہ کروں لیکن یہ درست نہیں۔قومی درستی فردی درستی سے زیادہ توجہ چاہتی ہے اور ہر فرد کی توجہ چاہتی ہے اگر ہر فرد اس مسئلہ کی طرف توجہ نہیں کریگا تو بعض حصّوں میں ضرور نقائص پیدا ہو جائیں گے اور پھر وہ اتنے بڑھ جائیں گے کہ اُن کا دُور کرنا فرد کے اختیار میں نہیں رہیگا بلکہ ایک وقت ایسا آئےگا کہ اُن کا دُور کرنا قوم کے اختیار میں بھی نہیں رہیگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نظام قائم رکھنے کے لئے اسلام نے خلافت کا سلسلہ قائم کیا ہے لیکن غلطی یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف خلافت ہی کا ذمہ ہے کہ وہ تمام کام کرے حالانکہ یہ خلافت ہی کا ذمہ نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی ایک شخص ساری قوم کی اس رنگ میں اصلاح کر سکتا ہے جب تک تمام افراد میں یہ رُوح نہ ہو کہ وہ قوم کی اصلاح کا خیال رکھیں۔اور جب تک تمام افراد اس کی درستی کی طرف توجہ نہ کریں اس وقت تک اصلاح کا کام کبھی کامیاب طور پر نہیں ہو سکتا۔میں سمجھتا ہوں اگر قرآن کریم کے اس حکم کی تعمیل میں مسلمان نَسْلًا بَعْدَ نَسْلٍ تبلیغ ہدایت کا کام جاری رکھتے اور لوگوں کی نگرانی کا فرض صحیح طور پر ادا کرتے تو وہ کبھی تباہ نہ ہوتے۔اب یہ ہماری جماعت کاکام ہے کہ وہ اس سبق کو یاد رکھے اورآئندہ نسلوں کی درستی کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرتی رہے۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ایک طرف تو تمہارا فرض ہے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم