تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 529

دونوں کے درمیان ہے۔اسی طرح اگر تعلیم کو لیا جائے تو قرآن کریم سب سے آخری تعلیم ہے۔اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کی تعلیم وسطی اور درمیانی نہیں کہلا سکتی۔خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (المائدة:۴) یعنی آج میں نے تمہارے فائدہ کے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنے احسان کو کامل کر دیا ہے اور تمہارے لئے دین کے طور پر صرف اسلام کو پسند کیا ہے پھر درجہ کے لحاظ سے بھی یہ اُمت درمیانی نہیں کیونکہ یہ سب سے اعلیٰ اور بہترین اُمت ہے جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران :۱۱۱) کہ تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔پس اُمَّۃً وَسَطًا کے معنی یہاں درمیانی امت کے کسی صورت میں چسپاں نہیں ہو سکتے کیونکہ امت محمدؐیہ نہ تو زمانہ کے لحاظ سے درمیان میں ہے اور نہ تعلیم اورشریعت کے لحاظ سے درمیان میں ہے پس جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَسَطًا کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے تمہیں ایک ایسی امت بنایا ہے جو اپنے اعمال میں ایک وسطی رنگ رکھتی ہے اور نہ تو افراط کی طرف جھکنے والی ہے اور نہ تفریط کی طرف مائل ہونے والی ہے بلکہ اس کے اعمال ترازو کے تول کی طرح ایسے اعتدال میں رہتے ہیں کہ کوئی پہلو بھی ایک طرف جھکا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔اسی لئے اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ ہر مسلمان کو اپنے تمام کاموں میں میانہ روی کی عادت ڈالنی چاہیے یہ نہیں کہ ایک ہی طرف کا ہو جائے اور دوسرے پہلوئوں کو نظر انداز کردے۔اگر وہ ایک ہی طرف کا ہو جائے گا تو اس کے طبعی جذبات جوش میں آکر کناروں پر سے بہہ پڑیں گے۔مثلاً اگر وہ رہبانیت اختیار کرےگا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے شہوانی جذبات کسی وقت اس کو بے قابو کر دیں گے اور وہ حلال طریق کو چھوڑ کر حرام میں مبتلا ہو جائے گا اسی طرح اگر وہ اپنا سب مال لوگوں میں تقسیم کر دےگا اور اپنے اور اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کے لئے کچھ نہیں رکھے گا تو چونکہ اس کی ضروریات خورونوش سب مال لٹا دینے سے باطل نہیں ہو جائیں گی وہ اپنا مال لٹا کر یا تو سوال کرنے پر مجبور ہو گا جو بذاتِ خود ایک ناپسندیدہ امر ہے اور یا پھر چوری اور بددیانتی کی طرف مائل ہو جائے گا اور بجائے نیکی میں ترقی کرنے کے گناہ کا مرتکب ہو گا پس شریعت اسلامی نے امت محمدیہ کو ایک ایسی امت قرار دے کر جو ہر کام میں اعتدال سے کام لیتی ہے گناہ کے تمام دروازوں کو بند کر دیا ہے اور اُمَّۃً و سَطًا میں اسلام کی اسی وسطی تعلیم کی طرف اشارہ ہے جس میں وہ دوسرے تمام مذاہب سے امتیازی شان رکھتا ہے اور اسی ایک دلیل سے اس کی فضیلت ثابت ہو جاتی ہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا ہم نے اس لئے کیا ہےلِتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ تاکہ تم دوسرے