تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 521
یعنی اسی رنگ میں رنگین ہو جائو جو اس کا مامور چاہے۔آیت۱۴۰ میں فرمایا کہ ان اہل کتاب سے کہو کہ کیا تم خدا تعالیٰ کے متعلق ہم سے بحث کرتے ہو کہ اس نے تمہیں کیوں اپنے کلام کے لئے چن لیا۔یہ اُس کا فضل ہے۔وہ ہمارے اور تمہارے اعمال سے خوب آگاہ ہے پس جو اخلاص سے کام لے گا وہی انعام پائےگا۔آیت۱۴۱ میں فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ اگر یہودی یا مسیحی قوم میں نجات ہے تو حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے بیٹے پوتوں کا کیا حال تھا کیا وہ بھی یہودی تھے ؟ یہ تو جھوٹ ہے کیونکہ وہ تمہاری مسلّمہ آسمانی کتاب سے پہلے زمانہ میں ہوئے ہیں۔آیت۱۴۲ میں اس قدر اتمامِ حجت کے بعد فرمایا کہ یہ نبیوں کا گروہ اپنے زمانہ میں گذر گیا۔ان نبیوں کے اعمال تمہارے کام نہیں آسکتے۔نہ مسیح ؑ کا تکلیف اُٹھانا تمہاری نجات کا موجب بن سکتا ہے۔تم سے تمہارے اعمال کی نسبت پوچھا جائے گا۔اس لئے تمہیں اپنا فکر کرنا چاہیے۔سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ کم عقل لوگ ضرور کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو اِن کے اس قبلہ سے جس پر یہ (پہلے) تھے الَّتِيْ كَانُوْا عَلَيْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ يَهْدِيْ کس چیز نے پھرا دیا ہے۔(جب وہ ایسا کہیں) تُو (اُن سے) کہنا کہ مشرق و مغرب اللہ ہی کے ہیں۔مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۱۴۲ وہ جسے چاہتا ہے ایک سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔حَلّ لُغَات۔سُفَھَآءُ: سَفِیْہٌ کی جمع ہے۔اور اَلسَّفْہُ کے معنے ہیں خِفَّۃُ الْحِلْمِ حلم کی کمی۔اَلْجَھْلُ جہالت۔اَلْخِفَّۃُ ہلکا پُھلکا ہونا۔اَلْـحَرَکَۃُ حرکت۔اَ لْاِضْطِرَابُ اضطراب(اقرب) پس سَفِیْہ کے معنے ہوئے کم علم۔کم عقل۔بات کو سمجھے بغیر بول اُٹھنے والے۔سطحی نگاہ والے۔بے استقلال۔اَلْقِبْلَۃُ: اَلْجِھَۃُ۔کُلُّ مَا یُسْتَقْبَلُ مِنْ شَیْ ءٍ قبلہ کے معنے ہیں جہت۔ہر وہ چیز جس کی طرف منہ کیا جائے۔(اقرب) عَلَیْھَا۔یہاں عَلٰی کے معنے جسمانی قیام کے نہیں بلکہ عمل اور عقیدہ کے لحاظ سے کھڑا ہونا مراد ہے۔ہمارے