تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 520
یعنی ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ یہودیت کے سب سے پہلے پیرو کار تھے۔(اَلْعِیَاذُ بِاللہِ ) تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْخَلَتْ لَھَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَاکَسَبْتُمْ۔فرماتا ہے یہ ایک اُمت تھی جو گذر چکی۔تم کیوں اپنی غلطیوں میں ان کو شریک کرتے ہو۔وہ اپنے اعمال کے آپ ذمہ دار ہیں اور تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہو۔پس اس بات سے کیا فائدہ کہ تم ان کو بھی اپنے ساتھ شامل کرتے ہو۔تم اپنے ایمان کی فکر کرو۔اُن کا ایمان تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیگا۔اور نہ اُن کی نیکیاں تمہاری نجات کا موجب بن سکیں گی۔گویا وہی مضمون جو آیت لَاتَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَاُخْرٰی(الانعام:۱۶۵) میں بیان کیا گیا ہے۔اس کو نئے رنگ میں اللہ تعالیٰ نے پیش کیا ہے اور عیسائیوں اور یہودیوں کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے آبائو اجداد کی طرف نہ دیکھیں بلکہ اپنے اعمال پر نگاہ ڈالیں اور سوچیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کیا وہ نجات کے مستحق ہیں یا نہیں۔اس رکوع کی پچھلی آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد کہ بنو اسحاق کے انعاماتِ نبوت سے محروم ہو جانے کے بعد بنو اسماعیل ہی حقدار انعام تھے کیونکہ ان کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی۔خصوصاً ایک صاحبِ شریعت نبی کی بعثت کی۔آیت ۱۳۱و۱۳۲ میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو سمجھایا کہ ملّتِ ابراہیمی کو ترک کر کے بیوقوف نہ ہو جانا۔جو یہ ہے کہ جو حکم بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اُسے قبول کر لیا جائے۔جو شخص اس طریق کو اختیار نہیں کریگا وہ نقصان اُٹھائیگا۔آیت۱۳۳ میں بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ نہ صرف خود اس طریق پر عامل تھے بلکہ ان کی اولاد بھی اپنی اولاد کو یہی وصیت کرتی چلی آئی ہے کہ ہمیشہ خدا کے فرمانبردار رہنا اور جب بھی کوئی مامور آئے اس کے حزب میں داخل ہو جانا۔آیت ۱۳۴ و۱۳۵ میں بتایا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام سے تو ان کی اولاد نے عہد بھی کیا تھا کہ وہ واحد خدا کی پرستش کرینگے اور اس کے کامل فرمانبردار رہیں گے اب تم لوگ اگر سچے اسرائیلی ہو تو تمہارا فرض ہے کہ اس عہد کو پورا کرو اور حضرت یعقوبؑ کی طرح فرمانبرداری کر کے دکھائو۔صرف اُن کی اولاد سے ہونا کچھ فائدہ نہیں دے سکتا کیونکہ ہر ایک اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔آیت۱۳۶ میں فرمایا دیکھو یہ ِضد چھوڑ دو کہ یہودی یا مسیحی ہونے کے بغیر نجات نہیں۔ابراہیمی طرزِ عمل اختیار کرو یعنی ہر حکم کو جس زمانہ میں بھی آئے مان لینا اور اس حکمِ الہٰی کے مقابل میں کسی روک کی پرواہ نہ کرنا۔آیت ۱۳۷ میں مسلمانوں کو مخاطب کیا اور انہیں توجہ دلائی کہ وہ لوگ طریق ابراہیمی اختیار کریں یا نہ کریں مگر تم ہمیشہ اس بات کا اقرار کرو کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہم اُسے تسلیم کرتے ہیں۔آیت۱۳۸ میں بتایا کہ اگر اہل کتاب تمہاری طرح اس عقیدہ پر راضی ہو جائیں تو سکھ پائیں گے ورنہ سزا۔آیت۱۳۹ میں تاکید فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ جو رنگ بھی چڑھائے وہ اپنے اوپر چڑھالو۔