تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 519
اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۰۰۱۴۱تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ طرف سے ہو چھپائے۔اور اللہ (تعالیٰ) اس سے ہرگز ناواقف نہیں ہے جو تم کرتے ہو۔یہ وہ جماعت ہے جو(اپنا زمانہ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ لَا تُسْـَٔلُوْنَ پورا کر کے ) فوت ہو چکی ہے۔اور جو کچھ اس نے کمایا (اُس کا نفع نقصان ) اُس کے لئے ہے اور جو کچھ تم نےکمایا عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَؒ۰۰۱۴۲ ( اُس کا نفع نقصان) تمہارے لئے ہے اور جو کچھ وہ کرتے تھے اُس کے متعلق تم سے نہیں پوچھا جائے گا۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود کا یہ دعویٰ بیان کرتا ہے کہ ابراہیم ؑ۔اسماعیل ؑ۔اسحٰق ؑ یعقوب ؑاور اس کی اولاد بھی یہودی یا مسیحی تھے۔قرآن کریم اس کا ایک سادہ سا جواب دیتا ہے مگر وہ ایسا جواب ہے کہ جس سے اُن پر موت وارد ہو جاتی ہے حضرت ابراہیم ؑ۔اسماعیل ؑ۔اسحاق ؑ۔یعقوب ؑ اور ان کی اولاد سے تعلق رکھنے والے افراد توریت اور انجیل کے زمانہ سے بہت پہلے گذر چکے تھے اور توریت جسے وہ الہامی مانتے ہیں۔اس میں اس کا صاف طور پر ذکر آتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم دانستہ جھوٹ بولتے ہو اور ان گواہیوں کو چھپاتے ہو جو تورات میں موجود ہیں جب اس میں صاف طور پر لکھا ہوا ہےکہ یہ لوگ پہلے گذر چکے تھے تو ان کا ایمان اس چیز سے جو ان کے بعد آئی کس طرح وابستہ ہو سکتا ہے اور وہ موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام پر ایمان لانے والے کس طرح قرار دیئے جا سکتے ہیں۔یہ ویسی ہی حماقت ہے جیسے پادری وُڈؔ نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ ابراہیم بھی کفارہ پر ایمان لایا تھا تب اس کی نجات ہوئی۔یا جیسے بعض شیعہ احباب کہہ دیا کرتے ہیں کہ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰھٖمَ(الصّافات: ۸۴) سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی شیعہ تھے۔فرماتا ہے ہم تمہاری بات مانیں یا تمہاری کتاب کو سچا تسلیم کریں۔تمہاری تورات تو کہتی ہے کہ ابراہیم ؑ زمانہ نزولِ تورات سے بہت پہلے ہوا اور تم اسے یہودی قرار دے رہے ہو۔یہ کیسی احمقانہ بات ہے۔تعجب ہے کہ اس زمانہ میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہودی قرار دینے والے لوگ موجود ہیں چنانچہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں JUDAISM کے نیچے لکھا ہے۔(IBRAHIM IS CONSIDERED TO HAVE BEEN THE FIRST ADHERENT OF JUDAISM) ( vol 13 page 165 ۱۹۵۰انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا