تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 512
غور کرو کیا صحابہؓکی بیویاں نہ تھیں۔کیا اُن کے بچّے نہ تھے کیا اُن کی جائدادیں اور تجارتیں نہ تھیں۔اگر وہ خدا کےلئے اپنی جانیں قربان نہ کرتے تو ہم تک اسلام کس طرح پہنچتا۔ہم تو جہالتوں میں مبتلا ہوتے۔کوئی بتوں کو ُپوج رہا ہوتا۔اور کوئی کسی دیوی دیوتا کے آگے اپنا سر جھکا ئے ہوتا۔خدا تعالیٰ کی ان پر ہزاروں ہزار برکات ہوں کہ انہوں نے اپنی جانوں کو ہمارے لئے آگ میں ڈالا۔اپنی اولادوں کو یتیم کیا۔اپنی بیویوں کو بیوہ کیا۔اپنے ماں باپ کو بے نوروبے چراغ کیا۔اور ہمیں اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔مگر افسوس کہ اُن کی اس قدر عظیم الشان قربانی کے بعد اور اُن سے نورِ ایمان حاصل کرنے کے بعد بجائے اس کے کہ مسلمان انہی کی طرح اس میدان میں نکلتے اور کہتے کہ ہم بھی وہی کچھ قبول کرتے ہیں جو صحابہ ؓ نے کیا۔انہوں نے دنیوی تکالیف اور مصائب سے ڈر کر اپنے قدم پیچھے ہٹالئے اور اسلام جن قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے اُن میں حصّہ لینے سے انہوں نے ہچکچانا شروع کر دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ڈرتے کیوں ہو۔اگر تم خدا تعالیٰ پر ایمان لائے ہو۔تو وہی تمہاری حفاظت کرے گا۔اور وہی تمہیں ہر قسم کے نقصان سے بچائے گا۔غرض اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو تم سمجھ لو کہ ان کے دلوں میں تمہاری نسبت سخت عداوت اور دشمنی ہے اور وہ تمہارے خلاف شرارتیں کریںگے مگر ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کافی ہو گا وہ تمہیں ان کے حملہ سے خود بچائے گا۔اور ان کی شرارتیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔فرماتا ہے یہ نہ سمجھ لو کہ اب خد اتعالیٰ کی طرف سے چونکہ وعدہ ہو گیا ہے۔اس لئے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ دعائیں کرو کہ ایسا ہی ہو۔خدا تعالیٰ سننے والا ہے اور جن باتوں کا تمہیں علم نہیں اُن کا اُسے خود علم ہے۔وہ آپ اُن کا انتظام کر دے گا۔انسان کی دو۲ حالتیں ہوا کرتی ہیں۔ایک یہ کہ انسان پر اس کا دشمن حملہ کرتا ہے اور اس حملے کا اُسے علم ہوتا ہے اور جہاں تک اُس کےلئے ممکن ہوتا ہے وہ اُس کا مقابلہ کرتا ہے۔اور اپنے بچاؤ کی تدبیر کرتا ہے۔دوسری حالت یہ ہوتی ہے کہ اس کا دشمن ایسے وقت میں حملہ کرتا ہے جبکہ اُسے خبر نہیں ہوتی۔یا ایسے ذرائع سے حملہ کرتا ہے جن کی اُسے خبر نہیں ہوتی۔مثلاً اس کے کسی دوست کو خرید لیتا ہے اور اس کے ذریعے اُسے نقصان پہنچادیتا ہے۔یا رات کو اس پر سوتے سوتے حملہ کر دیتا ہے۔یا راستہ میں چھپ کر بیٹھ جاتا اور اندھیرے میں حملہ کر دیتا ہے یا وہ اُسے تیر مار دیتا ہے یا کھانے میں زہر ملا کر اُسے کھلا دیتا ہے یا اس کا مال یا جانور چُرا لیتا ہے۔یہ وہ حملے ہیں جو اُس کے علم میںنہیں ہوتے اور اس وقت ہوتے ہیں۔جبکہ وہ بے خبر ہوتا ہے۔اِن دونوں حملوں کے بچائو کی مختلف تدبیریں ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ