تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 509
نام بھی تجویز ہوا ہو اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ خدا تعالیٰ کا برگزیدہ نہیں تھا خود الہامِ الٰہی کی تکذیب کرنا ہے۔پھرپیدائش باب ۱۷ آیت ۱۸ میں لکھا ہے۔’’ابراہام نے خدا سے کہا کہ کاش کہ اسمٰعیل تیرے حضور جیتا رہے۔‘‘ اصل عبرانی الفاظ کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’تیری آنکھوں تلے رہے اور تیرا مقبول ہو۔‘‘ اِس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔’’اور اسمٰعیل کے حق میں میں نے تیری سُنی دیکھ میں اسے برکت دو نگا۔اور اُسے بر ومند کروںگا۔اور اُسے بہت بڑھاؤںگا۔اور اُس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے۔اور میںاُسے بڑی قوم بناؤنگا۔‘‘ (آیت ۲۰) اِن دونوں آیات کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اسمٰعیل ؑ خدا تعالیٰ کا برگزیدہ ہو۔کیونکہ ان کے الفاظ ہیں۔’’تیرے حضور جیتا رہے ‘‘اور تیرے حضور جیتا رہنے کے معنے مقبول ہونے کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتے۔اگر آپ کا یہ مطلب نہ ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صرف اس قدر کہہ دینا کافی تھا کہ وہ جیتا رہے۔کیونکہ جس قدر لوگ زندہ رہے ہیں سب خدا تعالیٰ کے حضور ہی زندہ رہتے ہیں۔اُس سے غائب نہیں ہوتے۔پس ’’تیرے حضور‘‘ کے الفاظ بڑھانے کا اِس کے سواا ور کوئی مطلب نہیں تھا کہ تیرے ساتھ تعلق رکھنے والوں میں سے ہو۔اور نیک پاک اور خدا رسیدہ ہو چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس دعا کو قبول کر لیا اور کہا کہ میں نے تیری سن لی۔فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا پس اگر وہ لوگ (اسی طرح) ایمان لے آئیں جس طرح تم اس (تعلیم) پر ایمان لائے ہو تو (بس ) وہ ہدایت پا گئے۔هُمْ فِيْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُؕ۰۰۱۳۸ اور اگر وہ پھر جائیں تو (سمجھو کہ) وہ صرف اختلاف (کرنے) پر (تُلے ہوئے) ہیں۔اس صورت میں اللہ (تعالیٰ) تجھے ضرور اُن (کے شر) سے بچائے گا۔وہ بہت ہی سننے والا (اور) بہت ہی جاننے والا ہے۔حَلّ لُغَات۔شِقَاقٌ: شِقٌّ جانب کو کہتے ہیں۔پس شِقَاقٌ کے معنی دوری کے ہیں۔