تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 510

سَمِیْعٌ : کے معنے ہیں۔بہت سننے والااور عَلِیمٌ:کے معنے ہیں۔بہت جاننے والا۔تفسیر۔اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی تشریح بیان فرمائی تھی کہ ایمان کامل وہ ہوتا ہے جس میں انسان کوئی شرط نہ لگائے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو تعلیم آجائے اسے مان لے۔نہ قوم کی شرط ہونہ زمانہ کی۔نہ ملک کی اور نہ یہ شرط ہو کہ پہلے نبیوں کو مانیں گے اور جو آئندہ آئیں گے۔اُن کو نہیں مانیں گے۔فرمایا۔تم عالم ہو یا نہ ہو۔اگر تمہیں پتہ لگے کہ فلاں شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے تو تم اسے فوراً مان لو۔پس یہ کہنا کہ یہودی یا عیسائی ہونے سے نجات ملتی ہے۔یہ سب ڈھکونسلے ہیں۔ایمان کی پہلی شرط یہی ہے کہ بغیر کسی شرط کے انسان ایمان لائے اور اس کے ساتھ کوئی قید نہ لگائے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے کے لئے تیار رہے۔اس جگہ باء اور مثل دونوں لفظ ہم معنے آئے ہیں اور بظاہر یہ ایک تکرار نظر آتا ہے لیکن حقیقتاً تکرار نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہاں باء زائدہ ہے۔مگر زائدہ کے یہ معنے نہیں کہ اس کے کوئی معنے ہی نہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نئے معنے دیتی اورتاکید پیدا کرتی ہے۔بعض لوگ زائدہ کا لفظ سنکر کہنے لگ جاتے ہیں۔کہ کیا قرآن میں بھی زوائد ہیں۔حالانکہ یہ عربی زبان کی ایک اصطلاح ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ بے حقیقت ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تاکید کے لئے استعمال ہوئی ہے جیسے اردو میں ’’ہی‘‘ کا لفظ ہے۔یہ کوئی نئے معنے نہیں دیتا بلکہ پہلے معنوں کی تاکید کردیتا ہے۔جیسے کہتے ہیں۔’’یہ زید ہی ہے ‘‘۔اس فقرہ میں جو ’’ہی ‘‘ استعمال ہوا ہے یہ معنوں کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال ہوا ہے نہ کہ کوئی زائد معنے پیدا کرنے کیلئے۔اِسی طرح باء ہے یہ مثل کی تاکید کیلئے آئی ہے۔اور اس کے معنے ہیں۔’’بالکل ویسے ہی ‘‘ اگر صرف مثل کا لفظ استعمال کیا جاتا تو تھوڑی بہت اِدھر اُدھر ہونے کی گنجائش رہ جاتی تھی اور شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید پوری مشابہت مراد نہ ہو۔لیکن باء کی موجودگی نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی اور پوری طرح واضح کر دیا کہ جب تک ایمان کا ہر ایک نقطہ دوسرے نقطہ کے مشابہ نہ ہو اُسوقت تک وہ ایمان ہی نہیں کہلاسکتا۔زائدہ ہونے کے علاوہ باء استعانت کیلئے بھی ہو سکتی ہے۔اور مراد یہ ہے کہ فَاِنْ دَخَلُوْا فِی الْاِیْمَانِ بِشَھَادَۃٍ مِثْلَ شَھَادَتِکُمْ۔یعنی اگر وہ صداقت انبیا ء کی شہادت دیتے ہوئے اُن پر ایمان لے آئیں جیسے تم نے انبیاء کی صداقت کی شہادت دی ہے اور ان پر ایمان لے آئے تو پھر وہ ہدایت پا جائیں گے یعنی جب تک اُن کے ایمان کی وہی کیفیت نہ ہو جو تمہاری کیفیت ہے اُسوقت تک وہ ہدایت یافتہ نہیں سمجھے جاسکتے۔یہ بھی تاکید کا ہی ایک