تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 508
انہیں نبی کہہ دیا ہے۔اوروہ دریافت کیا کرتے ہیں کہ اسما عیل ؑ کی نبوت کا کیا ثبوت ہے ؟ (تفسیر سیل زیر آیت ھذا) حالانکہ اگر وہ غور کریں تو یہی سوال اُلٹ کر اُن پر پڑتا ہے کہ اسحاق ؑ کی نبوت کا کیا ثبوت ہے جو ثبوت اسحاق ؑ کی نبوت کا ہے وہی اسمٰعیل ؑ کی نبوت کا ہے موسیٰ ؑ اپنے دادا اسحاق ؑ کی نبوت کا اعلان کرتے ہیں۔اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دادا اسماعیل ؑ کی نبوت کا اعلان کرتے ہیں۔فرق یہ ہے کہ بائیبل نے بخل سے کام لے کر حضرت اسماعیل ؑ کی نبوت کا ذکر نہیں کیا۔اور قرآن کریم جو کبھی کسی صداقت کا انکار نہیں کرتا۔اُس نے نسلی تعصبات سے کام نہ لے کر دونوں بزرگوں کی بزرگی کا اقرار کیا ہے۔آخر بنی اسرائیل کے پاس اسحاق ؑ کی نبوت کا اِس کے سوا کیا ثبوت ہے کہ ایک سچے نبی نے جس کی نبوت اُن کے خیال میں دلائل سے ثابت ہے۔اسحاق علیہ السلام کی نبوت کا اقرار کیا ہے۔یہی دلیل ایک مسلمان دےگا کہ اسما عیل ؑ کی نبوت کا یہ ثبوت ہے کہ ایک سچے نبی نے جس کی نبوت دنیا کے تمام انبیاء کی صداقت کے دلائل سے زیادہ وزنی دلائل کے ساتھ ثابت ہے اُسے نبی قرار دیا ہے۔اگر بائیبل کی شہادت سے اسحاق علیہ السلام نبی قرار پا سکتے ہیں۔توقرآن کریم کی شہادت سے اسما عیل علیہ السلام کو کیوں نبی نہیں قرار دیا جا سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ مسیحی مصنّفوں کو حضرت اسما عیل علیہ السلام کی نبوت کے ماننے میں سوائے اس کے کوئی عذر نہیں کہ اُن کا ذکر بائیبل میں نہیں۔حالانکہ بائیبل سے ثابت ہے کہ اُن کو سارہ کے حسد کی وجہ سے وطن چھوڑ کر بے وطنی کی زندگی بسر کرنی پڑی تھی۔اور جبکہ سار ہ کو اسما عیل ؑ سے اِس قدر دشمنی تھی کہ اُن کو گھر چھوڑنا پڑا اور وہ بہت دور ایک ملک میں چلے گئے۔(پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۰) تو بنی اسرائیل نے اپنی کتب میں انکی کب تعریف کرنی تھی اور اُن کی نبوت کا کس طرح ذکر کرنا تھا۔پس اُن کے حالات کا بائیبل میں نہ ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ گو کسی چیز کا عدم ذکر اس کے عدم وجود پر دلالت نہیں کرتا۔مگر موجودہ بائیبل بھی ایسے اشارات رکھتی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے بھی خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے تھے۔اوّل تو اُن کا نام ہی دلالت کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے پیارے ہونے والے تھے۔کیونکہ آپ کا الہامی نام اسمٰعیل تھا۔جس کے معنے ہیں خدا نے سنی۔اوریہ نام بلاوجہ نہیں ہو سکتا۔چنانچہ پیدائش باب ۱۶آیت ۱۱ میں لکھا ہے۔’’خدا وند کے فرشتے نے اُسے (یعنی حضرت ہاجرہ ؑ کو )کہا۔کہ تو حاملہ ہے۔اور بیٹا جنے گی۔اس کا نام اسمٰعیل رکھنا کہ خداوند نے تیرا دکھ سن لیا۔‘‘ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسما عیل علیہ السلام کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی بشارت کے ماتحت ہوئی تھی۔اور الہامی طور پر آپ کا نام اسما عیل رکھا گیا تھا اور جو بچہ اللہ تعالیٰ کی بشارت کے ماتحت پیدا ہوا ہواور الہام میں اس کا