تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 503
چنانچہ لَھَا مَاکَسَبَتْ میں یہی بتایا ہے کہ اُن کی نیکیاں تمہارے کام نہیں آئیںگی اور تمہاری بدیاں اُن کے ذمہ نہیں ڈالی جائیں گی تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ حضرت ابراہیم۔اسمٰعیل اور اسحاق علیہم السلام نے کیا کیا تھا بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے کیا کیا۔وَ لَا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَکا یہ مطلب نہیں کہ تم سے پہلے لوگوں کے گناہوں کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا بلکہ یہ مطلب ہے کہ تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا کیانیکیاں کی تھیں بلکہ تم سے صرف تمہارے ذاتی اعمال کے متعلق سوال ہو گا۔اس لئے اپنے اسلاف کے عمل پر اپنی نجات کو منحصر نہ سمجھو۔وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اور (کیا تم نے سنا کہ) وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہودی یا مسیحی ہو جائو (اس طرح) تم ہدایت پا جائو گے۔تو (اُن سے) کہدے اِبْرٰهٖمَ حَنِيْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۰۰۱۳۶ (کہ یوں) نہیں بلکہ ابراہیم کے دین کو جو (خدا ہی کی طرف) جھکنے والا تھا (اختیار کرو) اور (یاد رکھو کہ) وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔حَلّ لُغَات۔اَلْحَنِیْفُ کے معنے ہیں اَلْمَائِلُ عَنِ الشَّیْ ءِ کسی چیز کی طرف سے توجہ پھیر کر دوسری طرف جُھک جانے والا۔محاورہ۲ میں اس کے معنے ہیں اَلْمَائِلُ عَنِ الضَّلَا لَۃِ اِلَی الْھُدیٰ(مفردات)جو شخص ضلالت کی طرف سے منہ پھیر کر ہدایت کی طرف توجہ کرے۔(۳) اَلْمُسْتَقِیْمُ۔سیدھا (اقرب الموارد) (۴) اَلصَّحِیْحُ الْمَیْلَانِ اِلَی الْاِسْلَامِجس کی اسلام کی طرف صحیح توجہ ہو۔پس حنیف کے معنے ہیں۔ضلالت چھوڑنے والا صحیح راستہ پر چلنے والا۔اسلام کی طرف صحیح رغبت رکھنے والا۔اور اس کے ایک معنے قرآن کریم سے یہ ثابت ہوتے ہیں کہ جو سارے رسولوں پر ایمان رکھتا ہو۔کیونکہ اس کے معًا بعد یہ ذکر آتا ہے کہ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖٞ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ۔گویا حنیف کی تشریح یہ ہے کہ جو سب رسولوں پر ایمان لائے۔ابنِ کثیر میں ابوقلابہ کا بھی ایک قول آتا ہے کہ اَلْحَنِیْفُ الَّذِیْ یُوْمِنُ بِالرُّسُلِ کُلِّھِمْ مِنْ اَوَّ لِھِمْ اِلیٰ اٰخِرِھِمْ۔(تفسیر ابن کثیر بر حاشیہ فتح البیان زیر آیت ھذا) یعنی حنیف وہ ہے جو سب رسولوں پر ایمان لائے۔انہوں نے معلوم نہیں