تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 499

ہوئی تھی۔پھر حضرت اسحاق علیہ السلام والی تجلی سے بھی ہم ناواقف نہیں۔اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اپنے تفصیلی علم کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ کیا اتنے جلوے دیکھنے کے بعد بھی ہم بے ایمانی کر سکتے ہیں یہ ویسی ہی بات ہے جیسا کہ ہندہ کے متعلق فتح مکہ کے موقعہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے دیا تھا کہ وہ جہاں ملے اُسے قتل کر دیا جائے۔کیونکہ اس نے بہت سے مسلمانوں کو قتل کروایا تھا مگر وہ عورت ہوشیار تھی چالاکی سے عورتوں میں مل کر بیعت کرنے کے لئے آگئی۔جب آپؐ نے عورتوں سے فرمایا کہ کہو ہم شرک نہیں کریں گی تو وہ فوراً بول اُٹھی کہ یا رسول اللہ! کیا اب بھی ہم شرک کریں گی آپ اکیلے تھے اور آپ کے مقابلہ پر تمام عرب تھا۔ہم نے آپ کی مخالفت کی اور آپ کو ناکام بنانے کے لئے ایڑی سے چوٹی تک زور لگایا مگر اس کے باوجود آپ کامیاب ہو گئے اور ہمارے بتوں نے ہماری کچھ بھی مدد نہ کی۔کیا اتنے واضح نشان کے بعد بھی ہم شرک کریںگی(تاریخ طبری سنة ۸ فتح مکة)۔حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد نے بھی یہی جواب دیا۔چونکہ ان کے ایک حصّہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی مخالفت کر کے عدمِ ایمان کا ثبوت دیا تھا۔اور پھر مصر میں بُت پرستی بھی عام تھی اس لئے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اُن سے آخری وقت میں پوچھا کہ میری زندگی میں تم میری پیروی کرتے رہے لیکن اب بتائو کہ میرے مرنے کے بعد تم کیا رویہ اختیار کرو گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان اب پختہ ہو چکا ہے اور ہم پر تمام تجلیات ظاہر ہو چکی ہیں اب ہم خدا تعالیٰ کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں وہ نادانی کا وقت اور تھا جبکہ ہم نے یوسف علیہ السلام کی مخالفت کی اور اُن کو کنوئیں میں ڈال دیا تھا۔اب ہم سے یہ حماقت نہیں ہو سکتی۔اِلٰهًا وَّاحِدًا۔اِلٰہَ اٰبَآئِکَ کا بدل ہے چونکہ انہوں نے مختلف ناموں یعنی ابراہیم ؑ۔اسماعیل ؑ اور اسحٰق ؑ کی طرف اِلٰہکو منسوب کیا تھا اس لئے خیال ہو سکتا تھا کہ شاید کئی اِلٰہ ہوں اس شبہ کے ازالہ کے لئے بتایا کہ وہ ایک ہی خدا ہے۔اِلٰـھًا وَّ احِدًا حال بھی ہو سکتا ہے یعنی حَالَ کَوْنِہٖ اِلٰھًا وَّ احِدًا اس حال میں کہ ایک ہی خدا ہے صرف اس کی تجلّیات مختلف ہیں۔درحقیقت اس میں یہود کو توجہ دلائی گئی ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام تو مرتے وقت بھی ایک خدا کی پرستش کی تاکید کرتے گئے ہیں پھر اُن کی نسل آج اپنی ہواوہوس کے پیچھے کیوں پڑرہی ہے۔وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک ہر سچا پرستار مسلم ہے۔چنانچہ پہلے کہا تھا۔وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ اور اس جگہ انہوں نے خود کہا ہے وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ۔حالانکہ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر دین کا سچا پرستار مسلم ہے اور اسی بنا پر تمام پہلے مذاہب کے پیرو جو اپنے اپنے مذہب کی تعلیم پر سچے دل سے عمل کرنے والے تھے وہ بھی مسلم