تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 498

غرغرہ موت شروع ہوا تو فرمانے لگے۔غلام احمد یہ غرغرہ ہے اور پھر چند منٹ کے بعد فوت ہو گئے۔تو حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ سے مراد جیسا کہ بعض نے سمجھا ہے یہ نہیں کہ جب جان کندنی شروع ہو گئی تھی۔بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اُن کی موت کا وقت قریب آگیا تھا۔اِذْقَالَ یہ پہلے اِذْ کا بدل ہے۔گویا حَضَرَ الْمَوْتُ سے مراد وہ وقت ہے۔جب انہوں نے موت کو قریب دیکھتے ہوئے وصیت کی۔اور اپنی اولاد سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی پرستش کروگے ؟ قَالُوْ انَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَاِلٰہَ اٰبَآ ءِ کَ۔اس آیت پر عیسائیوں نے اعتراض کیا ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ تو اُن کے آباء میں سے نہ تھے۔بلکہ چچا تھے۔پھر انہیں اَبٌ کیوں کہا گیا ہے۔؟ مگر یہ اعتراض اُن کی عربی زبان سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔عربی زبان میں اَبٌ کا لفظ چچا کیلئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔لیکن چونکہ عیسائی جب قرآن کریم پڑھتے ہیں تو اُن کی نیّت صرف اعتراض کرنا ہوتی ہے۔اس لئے وہ بات بات پر اعتراض کرنا شروع کردیتے ہیںاور یہ نہیں دیکھتے کہ اس سے ان کی اپنی نا بینائی کا ثبوت ملتا ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب انہوں نے نَعْبُدُ اِلٰھَکَ کہہ د یا تھا تو پھر اِلٰهَ اٰبَآىِٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا کہنے کی کیاضرورت تھی کیونکہ جو یعقوبؑ کا معبود تھا وہی ابراہیم ؑ کا معبود تھا۔وہی اسمٰعیل ؑ اور اسحاق ؑ کا تھا۔پس اِلْھَکَ پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے اِلٰـہَ اٰبَآئِکَ کہنا اور پھر اس پر بھی اکتفا نہ کرتے ہوئے ابراہیم ؑ اسمٰعیل ؑ اور اسحاق ؑ کے الفاظ بڑھانا کیا معنے رکھتا ہے۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ اس میں ایک حکمت ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوراء ہے جو انسان کو نظر نہیں آتی۔ہم ربؔ۔رحمٰنؔ اور رحیمؔ وغیرہ الفاظ تو استعمال کر لیتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی پوری حقیقت صرف ان چند الفاظ سے واضح نہیں ہوتی اور جب انسان یہ چاہتا ہو کہ وہ کسی بات کو کھول کر بیان کرے تو اس کی وضاحت کے لئے مختلف طریق اختیار کرتا ہے۔جیسے اگر انسان اپنے کسی محسن کا احسان یاد دلائے تو وہ کہتا ہے کہ فلاں کا مجھ پر احسان ہے اور پھراُس کی تشریح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اُس نے کیا احسان کیا۔اِسی طرح اللہ تعالیٰ کے جلال اور اُس کے جمال کا اظہار مختلف تجلیات میں ہوتا ہے۔کوئی تجلی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ہوئی۔کوئی تجلی حضرت اسحاق علیہ السلام پر ہوئی۔کوئی تجلی حضرت اسماعیل علیہ السلام پر ہوئی۔پس اُن کی اولاد نے ضروری سمجھا کہ وہ اپنے اُن آباء کا نام لے کر کہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ان تجلیات سے خوب آگاہ ہیں جو اُن کے وجود سے ظاہر ہوئیں۔ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی بھی دیکھی ہے اور خدا تعالیٰ کی وہ تجلی بھی دیکھی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ظاہر ہوئی تھی اسی طرح ہم نے وہ تجلی بھی دیکھی ہے جو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پر ظاہر