تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 497
اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب پر موت (کی گھڑی) آئی۔(اور) جب اس نے لِبَنِيْهِ مَاتَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ انہوں نے (جواباً) کہا کہ ہم تیرے معبود اِلٰهَ اٰبَآىِٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ اور تیرے باپ دادوں ابراہیم ؑ اوراسمٰعیل ؑ اور اسحاق ؑ کے معبود کی جو ایک ہی معبود ہے عبادت کریں گے نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ۰۰۱۳۴ اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔حَلّ لُغَات۔اَ لْاَبُ: اَلْوَالِدُ۔وَیُسَمَّی کُلُّ شَیْ ءٍ مَنْ کَانَ سَبَبًا فِیْ اِیْجَادِشَیْ ءٍ اَوْاِصْلَا حِہٖ اَوْ ظُھُوْرِہٖ اَ بًا(مفرداتِ راغب) یعنی اَبٌ والد کو کہتے ہیں۔اسی طرح ہر وہ چیز جو کسی چیز کے پیدا کرنے یا اصلاح کرنے یا ظاہر کرنے کا موجب ہو اُسے بھی اَبٌ کہتے ہیں۔اور جب چچا کا باپ کے ساتھ ذکر کیا جائے تو چچا بھی اَبٌ کہلاتاہے۔اِسی طرح ما ں باپ کیلئے اَبْوَیْن آتا ہے۔اور دادا اور باپ کا ذکر ہو تو بھی اَبْوَیْن کہتے ہیں۔غرض ماں بھی اَبٌ اورچچا بھی اَبٌ اور دادا بھی اَبٌ کہلاتا ہے۔تفسیر۔حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ایک محاورہ ہے جو جان کندنی کےلئے نہیں بلکہ موت کے قریب آجانے کےلئے استعمال ہوتا ہے۔ورنہ جان کندنی کے وقت تو انسان کلام ہی نہیں کر سکتا۔جب غرغرہ موت شروع ہو جاتا ہے تو انسان کے حواس پر اثر پڑنا شروع ہو جاتا ہے گو وہ بھی کبھی زیادہ لمبا اور کبھی بہت قلیل عرصہ کے لئے ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ توبہ جان کندنی تک قبول ہوتی ہے (ترمذی ابواب الدعوات باب فی فضل التوبة وا لاستغفار)۔جب جان کندنی شروع ہو جائے تو پھر توبہ قبول نہیں ہوتی۔کیونکہ جب غرغرہ موت شروع ہوجاتا ہے تو حواس جاتے رہتے ہیں۔یہ غرغرہ بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک ابتدائی اور ایک اُس کے بعد کا جو اصلی اور حقیقی ہوتاہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے والد صاحب بڑے طاقتور تھے۔