تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 46

مطالبہ خلافِ عقل ہے۔(۴) قدیم یونانی تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کے لوگ بھی اس امر کو تسلیم کرتے تھے کہ اسرائیلی وہاں سے نکل کر گئے ہیں گو وہ روایات بے سرو پا ہیں۔مثلاً ان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی مصر کے کوڑہیوں کی اولاد ہیں۔اور چونکہ ان کو دوسروں سے الگ رکھا گیا۔اور چونکہ وہ مصری خداؤں کا انکار کرنے لگے تھے۔انہوں نے بغاوت کی اور اس لئے انہیں وہاں سے نکالا گیا۔(یہ روایات علاوہ اور مصنفوں کی اَبد ِ یْرَا کے ہیْکَاتِیَسْ نے جو سکندر رومی کا ہم عصر تھا اور منیتھو نے جو باشندہ ہِلْیُو پول کا تھا لکھی ہیں۔( دیکھو اسرائیل مصنفہ اڈولف لاڈز صفحہ ۱۶۷۔۱۶۸) اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ روایات بائبل کی روایات کے کلی طور پر خلاف ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر بنی اسرائیل مصر میں نہ گئے تھے اور نہ وہاں سے نکلے تھے تو پھر یہ روایات مصر والوں نے بنائیں کیوں؟ روایات میں جو اختلاف ہے اس کی وجہ تو سمجھ میں آ سکتی ہے کہ مصری اسرائیلیوں کے دشمن تھے۔ان کا بادشاہ موسیٰ ؑ کے مقابلہ میں ذلیل ہو کر مرا۔اس لئے انہوں نے یہ روایات گھڑ لیں کہ یہ کوڑ ہی تھے اور ہم نے ان کومار کر نکال دیا۔لیکن اس کی غرض کیا ہو سکتی تھی کہ نہ اسرائیلی ان کے ملک میں آئے نہ وہاں سے نکلے مگر مصری خود بخود قصے بنانے لگ گئے کہ اسرائیلی ہمارے ملک میں آئے تھے اور ہم نے ان کو نکال دیا۔اور اِدھر خود اسرائیلیوں نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا کہ ہم وہاں گئے تھے اور انہوں نے ہمیں نکال دیا۔یہ بات بالکل خلافِ عقل ہے اور بائبل اور قرآن کریم کا بیان کہ بنی اسرائیل مصر گئے تھے اور وہاں سے خدا تعالیٰ کی مدد سے نکلے بالکل درست ہے۔بنی اسرائیل کے سمندر سے گزرنے کے مقام کی تفصیل اِ س امر کے واضح ہو جانے کے بعد کہ مصر سے مراد افریقی مصر ہی تھا یہ تو یقین ہو جاتا ہے کہ بنی اسرائیل افریقی مصر سے کنعان کی طرف روانہ ہوئے تھے۔اب رہا یہ سوال کہ وہ شمال کی طرف سے گئے یا وسط سے یا جنوب سے۔مذہبی نقطۂ نگاہ سے کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا۔مگر جہاںتک معلومہ تحقیق کا تعلق ہے اور بائبل اور قرآنِ کریم کی بتائی ہوئی مدّ و جزر کی کیفیات سے نتیجہ نکلتا ہے یہی بات قرین قیاس ہے کہ بنو اسرائیل تَل ابی سلیمان کے مقام سے ( دیکھو نقشہ اس جگہ فرعونِ موسیٰ کا پایہ تخت ہوتا تھا) پہلے وسط یعنی جھیل تمساح کی طرف گئے جہاں سے کنعان نزدیک پڑتا ہے ( دیکھو نقشہ ) پھر وہاں سے جھیلوں کی روک دیکھ کر جنوب کی طرف لَوٹے۔اور سویز کے مقام کے پاس سے سمندر میں سے جزر کے وقت پار ہوئے اور وہاں سے قادس کی طرف روانہ ہو گئے۔جہاں سے بنی اسرائیل سمندرپار ہوئے وہاں کا فاصلہ صرف ۲،۳میل تھا وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ