تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 494

رہےگا۔پس وہاں بھی عمل ہو گا اور جنتیوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کے دروازے اُسی طرح کھلے ہوں گے جس طرح اس جہان میں کھلے ہیں۔اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۱۳۲ جب اس کے ربّ نے اسے کہا کہ (ہماری) فرمانبرداری اختیار کر۔اس نے (جواب میں ) کہا کہ میں تو (پہلے ہی سے) تمام جہانوں کےربّ کی فرمانبرداری اختیار کر چکا ہوں۔حَلّ لُغَات۔اَسْلَمَ کے معنے ہیں۔اِنْقَادَ۔مطیع ہو گیا۔(۲) تَدَیَّنَ بِدِیْنِ الْاِسْلَامِ۔اس نے دین اسلام اختیار کر لیا۔(۳) اَسْلَمَ اَمْرَہٗ اِلَی اللّٰہِ اُس نے اپنا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیا (اقرب)۔پس اَسْلَمَکے معنے ہیں سپرد کردینا۔تفسیر۔عربی زبان میں اَسْلَمَکے ساتھ اِلٰی کا صلہ استعمال ہوا کرتا ہے۔لیکن یہاں اِلٰی کی بجائے لامکا صلہ استعمال کیا گیا ہے۔مفسرین خیال کرتے ہیںکہ اس جگہ لام کا صلہ اِلٰی کا قائم مقام ہے۔لیکن میرے نزدیک یہ درست نہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب خدا تعالیٰ کے حکم اَسْلِمْ کے جواب میں اَسْلَمْتُ کہا تو یہ مضمون تو اس میں خود بخود آگیا کہ میں خدا تعالیٰ کا فرمانبردار ہوچکا ہوں کیونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا ہی فرمانبردار ہونا تھا کسی اور کا نہیں۔پس یہاں لام کا صلہ استعمال کرنے کی یہ وجہ نہیں کہ وہ خد ا تعالیٰ کے متعلق اپنی فرما نبرداری کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔بلکہ درحقیقت اس میں اَسْلَمْتُ کہنے کی انہوں نے یہ وجہ بتائی ہے اور کہا ہے کہ میں اپنے کام خدا تعالیٰ کو اس لئے نہیں سونپتا اور اس وجہ سے اس کی فرمانبرداری نہیں کرتا کہ مجھے کوئی مادی نفع حاصل ہو۔بلکہ میں ربُّ العالمین خدا کی خاطر ایسا کرتا ہوں۔تاکہ وہ مجھے مل جائے کیونکہ وہ میرا اور سب جہان کا محسن ہے اور میں اس سے جدُا رہنا پسند نہیں کرتا۔گویا یہ ایک زائد مضمون ہے۔جو انہوں نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔انہیں یہ حکم ہوا تھاکہ اَسْلِمْ یعنی اے ابراہیم !میں تجھے صرف یہی نہیں کہتا کہ تو کسی بُت کو سجدہ نہ کر بلکہ میں تجھے یہ بھی کہتا ہوں کہ تو اپنے دل کے خیالات بھی کلّی طور پر میری اطاعت میں لگا دے اور ابراہیم ؑ نے اس کے جواب میں فورا ً کہا کہ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔اے خدا ! میرے جسم کا ذرّہ ذرّہ تیرے آگے قربان ہے۔میری عقل اور میرا علم اور میرا ذہن سب تیرے احکام کے تابع ہیں۔اور میری ساری طاقتیں اور ساری قوتیں ربُّ العالمین