تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 489
بُھول جانے اور اس سے ناواقف ہوجانے کے ہیں پس بھولنا۔بیوقوف بنانا۔ہلاک کرنا۔ناواقفی۔عدم علم سب اس کے معنے ہیں۔ان معنی کو مدّنظر رکھتے ہوئے آیت کے یہ معنے بنتے ہیں کہ (۱) جو شخص اپنی جان کو بھول جاتا ہے(۲) جو اپنی جان کو حماقت پر آمادہ کرتا ہے یا اپنے نفس کو کہتا ہے کہ تم بیوقوفی کرو۔(۳) جو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالتا ہے (۴) جو اپنے نفس کو حقیقت سے آگاہ نہیں کرتا۔اِصْطَفٰی کے معنے ہیں اِخْتَارَ۔اختیار کر لیا۔پسند کر لیا۔چن لیا۔(۲) اَخَذَہٗ صَفْوَ ۃً اس کو پاکیزہ شکل میں لے لیا (المنجد)یعنی نہایت پسند یدہ صورت میں اسے اپنے قریب کر لیا۔اور اس کے نیک اعمال دیکھ کر اُسے اپنے قرب میں جگہ دی۔صَالِحٌ کے معنی ہیں درست۔جس میں صلاحیت پائی جائے اور عمل صالح وہ عمل ہے جو مناسب حال ہو۔نیک عمل اور ہوتا ہے اور مناسب حال اَور چیز ہے۔نماز نیک عمل ہے مگر دشمن کے حملہ کے وقت وہ عمل صالح نہیں ہوتی بلکہ اس کے حملہ کا دفاع عمل صالح ہوتا ہے۔پس صالح وہ شخص ہے جس کی زندگی اپنے ماحول کے مطابق ہو اور نیک بھی ہو۔اگر ہم یہ کہیں کہ فلاں شخص صالح ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ نیک اعمال کرتا ہے اور مناسب حال کرتا ہے۔بدی بھی کبھی مناسب حال ہوتی ہے مگر وہ نیکی نہیں ہوتی اس لئے وہ صالح نہیں ہوتی۔صالح میں دونوں باتوں کی شرط ہے یعنی وہ خیر ہی خیر ہو اور پھر مناسب حال ہو۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال پیش کرنے کی بجائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال اس لئے پیش کی ہے کہ مخاطبین میں یہود اور نصاریٰ بھی شامل ہیں۔اور ان کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ آپ پر ایمان ہی نہیں رکھتے تھے۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال اُن کے لئے دلیل ہو سکتی تھی کیونکہ عرب بھی اور یہودی بھی اور عیسائی بھی اور صابی بھی سب کے سب حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لانے میں مشترک تھے پس ضروری تھا کہ ان کے سامنے ایسے شخص کی مثال پیش کی جاتی جو علاوہ اہل عرب کے اہل کتاب کے تینوں گروہوں کے لئے بھی یکساں قابلِ احترام ہوتا اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی ہو سکتے تھے۔جو علاوہ عربوں کے یہود کے لئے بھی واجب الاحترام ہیں۔عیسائیوں کے لئے بھی واجب الاحترام ہیں اور صابیوں کے لئے بھی واجب الاحترام ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے عربو اور یہودیو اور عیسائیو اور صابیو! تم بھی ابراہیمی طریق اختیار کرو۔اور جو خدا تعالیٰ کی طرف سے حَکَم بن کر آیا ہے اس کو مانو او ر قومی جنبہ داریوں اور تعصبات کو چھوڑ دو۔جیسا کہ ابراہیم