تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 488
اس رکوع کی آیت۱۲۳، ۱۲۴ میں یہ بتانے کے لئے کہ جو مضمون شروع کیا گیا تھا وہ ختم کیا جاتا ہے پھر اُسی مضمون کے الفاظ لائے گئے ہیں جو آیت۴۱ میں تھے۔اور فرمایا کہ دیکھو ہم نے اپنا عہد پورا کیا اور تمہیں لوگو ں پر فضیلت دی مگر اس کے مقابلہ میں تم نے جو شکر کیا وہ یہ ہے پس اب تم میں نبی نہیں آسکتا۔تم ایمان لائو ورنہ عذاب الہٰی جب نازل ہوتا ہے تو نہ شفاعت کام دیتی ہے اور نہ تاوان۔آیت۱۲۵ میں بتایا کہ نبوت سے بنی اسرائیل کو محروم کرنا بھی اسی عہد کے مطابق ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کی اولادکے متعلق کیا گیا۔آیت۱۲۶ ،۱۲۷ میں اس سوال کا جواب دیا جو بنی اسرائیل کو نبوت سے محروم رکھنے پر پیدا ہوا تھا کہ اب نبی کس قوم سے پیدا ہونا چاہیے۔فرمایا کہ بنواسمٰعیل سے۔چنانچہ اس کے لئے تعمیر کعبہ کا واقعہ یاد دلایا جس میں حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ حضرت اسمٰعیل ؑ بھی شامل تھے۔اور دونوں نے بہت دعائیں کی تھیں جو رائیگاں نہیں جا سکتیں۔آیت۱۲۸،۱۲۹،۱۳۰ میں ان دُعائوں کا ذکر کیا اور اس نبی کے کاموں کی تفصیل بتائی جس کے مبعوث ہونے کی دعا کی گئی تھی۔اور ان دعائوں کو بیان کر کے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ بنو اسحٰق کی ترقی کے علاوہ بنو اسمٰعیل کی ترقی کے لئے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی۔پس جب بنو اسحٰق اپنی بداعمالیوں سے نبوت کے انعام سے محروم کئے گئے تو ان کے بعد بنو اسمٰعیل حق دار تھے کہ نبوت کا انعام انہیں ملتا۔پس آنے والا بنی اسماعیل میں سے ہونا چاہیے تھااور انہیں میں سے آیا ہے۔وَ مَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اور اس شخص کے سوا جس نے اپنے آپ کو ہلاک کر دیا ہو ابراہیم کے دین سے کون اعراض کر سکتا ہے؟اور ہم نے اصْطَفَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ۰۰۱۳۰ یقیناً اسے (اس) دنیا میں بھی برگزیدہ کیا تھا اور وہ آخرت میں بھی یقیناً نیک لوگوں میں (شمار) ہو گا۔حَلّ لُغَات۔سَفِہَ۔(۱) سَفِہَ نَصِیْبَہٗ کے معنے ہیں نَسِیَہٗ اپنا حصہ بھول گیا۔(۲)سَفِہَ نَفْسَہٗ کے معنے ہیں حَمَلَہٗ عَلَی السَّفَہِ۔اُسے بیوقوفی پر آمادہ کیا(۳) اَھْلَکَہٗ اپنی جان کو ہلاک کیا۔(۴) جَھَلَہٗ۔اپنی حقیقت کو نہ سمجھا۔(لسان) جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ اِنَّمَا الْبَغْیُ مِنْ سَفْہِ الْحَقِّ اَیْ مِنْ جَھْلِہٖ (مسند احمد بن حنبل مسند عبد اللہ بن مسعودؓ) یعنی ظلم کسی کا حق نہ پہچاننے کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس جگہ سَفِہَ کے معنے حق کو