تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 487

تعالیٰ نے آپ کی دُعا کو قبول فرماتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نسلِ اسمٰعیل میں سے مبعوث فرما دیا اور وہ تمام کام آپؐ نے کر دکھائے جن کی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواہش کی تھی۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے آپ کو دُعائے ابراہیمی کا مصداق قرار دیا ہے اور آپ نے فرمایا ہے۔اَ نَا دَعْوَۃُ اَبِیْ اِبْرَاھِیْمَ(جامع البیان زیر آیت ھذا ) یعنی میں وہ شخص ہوں جو اپنے دادا ابراہیم ؑ کی دُعائوں کے مطابق دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کیا گیا ہوں۔پس یہ ایک بہت بڑی دُعا ہے جو اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت ہے۔اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔اس جگہ خدا تعالیٰ کی دو۲ صفات عزیز اور حکیم کا اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ دُعائے ابراہیمی کا ایک حصہ صفت عزیز سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا صفت حکیم سے۔یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ اور يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ والا حصہ صفت عزیز کے ماتحت ہے کیونکہ غالب خدا ہی بندوں تک پہنچ سکتا ہے۔بندہ اپنی ذاتی جدوجہد سے اس تک نہیں پہنچ سکتا اور پھر غالب خدا کا ہی یہ حق ہے کہ احکام دے۔دوسری طرف حکیم ہستی ہی دوسروں کو حکمت سکھا سکتی ہے اور تزکیہ بھی حکمت ہی کے ماتحت ہوتا ہے۔اگر حکمت سمجھائے بغیرکوئی بات منوائی جائے تو دل اس کا تابع نہیں ہو سکتا دل تبھی مانے گا جب وہ اس کی حکمت معلوم کرلے گا۔اسی طرح تزکیہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک دل پر اثر نہ ہو۔غرض اس دُعا کا ایک حصّہ صفت عزیز سے اور دوسرا صفت حکیم سے تعلق رکھتا ہے۔یہی چار مقاصد خلافتِ اسلامی کے فرائض سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔یعنی دلائل سکھانا۔خدا کی باتیں لوگوں کو بتانا۔شریعت سکھانا۔ایمان تازہ کرنے کے لئے قرآن کریم کے احکام اور ان کی حکمتیں بتانا۔جسمانی و قلبی طہارت پیدا کرنے کی کوشش کرنا اور یہی مبلّغوں، کارکنوں، پریذیڈنٹوں امیروں اور سکریٹریوں کا کام ہے۔جب تک ان چاروں باتوں کو مدّنظر نہ رکھا جائے اُس وقت سلسلہ کی غرض و غایت پوری نہیں ہو سکتی۔ابتدائے خلافت میں میں نے منصب خلافت میں ان باتوں کو تفصیل سے بیان کر دیا تھا۔تاکہ لوگ اس طرف توجہ کریں اور اُنہیں بار بار مجھ سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے کہ ہمیں بھی کوئی کام بتایا جائے۔مگر بہت کم لوگ اس طرف توجہ کرتے ہیں۔پس جو دوست سلسلہ کی خدمت کا شوق رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس کتاب کو پڑھ لیں اور خود ہی دیکھ لیں کہ ان کے کیا فرائض ہیں۔ان کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ وہ ان چاروں کاموں کو پورا کریں۔یہی وہ کام ہیں جن کے لئے اسلام نبوت خلافت اور امامت قائم کرتا ہے۔پس نبی کا بھی اور پھر اس کے بعد خلفاء اور ان کے تابعین کا بھی یہی کام ہوتا ہے اور جو شخص ان کاموں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے انصار میں شامل کر لیتا ہے۔