تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 45
بنی اسرائیل کے مصر میں ورود کے چار قیاسی دلائل ان تینوں قسم کے دلائل کو ردّ کرنے کے بعد مَیں بعض قیاسی دلائل اس امر کی تائید میں دیتا ہوں جو بنی اسرئیل کے مصر میں ورود کے ثبوت میں ہیں۔(۱) یہی لوگ جو بنی اسرئیل کے مصر سے آنے کے خلاف ہیں تسلیم کرتے ہیں کہ موسیٰ کا نام خود مصری زبان میں ہے۔ان کے نزدیک مُو سیٰ ؑ مَوْسِے تھا۔جس کے معنے ’’بیٹے ‘ ‘کے ہیں۔( مَوْزِزْ اینڈ مَا نَوتھِیْ اِزم۔مصنفہ سِگمْنَڈ فَرائڈ SIGMUND FREUD زیر عنوان Moses and Egyptian) اگر ان کا یہ دعویٰ درست ہے تو پھر یہ اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ اسرائیلی افریقی مصر میں تھے۔اور وہاں ان کی رہائش اِس قدر لمبی تھی کہ انہوں نے مصری زبان کے نام بھی رکھنے شروع کر دئے تھے۔یہ لوگ اِس امر کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعض دوسرے ساتھیوں کے نام حور وغیرہ بھی جو بائبل میں آتے ہیں مصری ہیں۔اگر یہ درست ہے تو بنی اسرائیل کے مصر میں رہنے اور وہاں سے نکلنے کا یہ مزید ثبوت ہے۔(۲) بائبل مصر میں اپنے باپ دادوں کو بادشاہ اور حاکم قرار نہیں دیتی۔کہ سمجھا جائےانہوں نے اپنی شان بڑھانے کے لئے یہ قصہ گھڑ لیا۔بائبل تو ان کو وہاں غلاموں کی صورت میں پیش کرتی ہے۔اور اِس قسم کے قصہ بنانے کا کوئی محرک نظر نہیں آتا۔پس اسے بناوٹی قرار دینے کی کوئی دلیل موجود نہیں۔(۳) بائبل میں جو تفصیلات ہیں وہ سب افریقوی مصر پر صادق آتی ہیں۔فراعنہ کا ذکر ان کے بعض بادشاہوں کے نام جو تاریخ سے ثابت ہو گئے ہیں۔افریقوی مصر کے بعض شہروں کا نام جو گو مٹ چکے تھے مگر اب پرانی جگہوں کی کھدائیوں سے ان کی تصدیق ہو گئی ہے۔فرعونیوں کے قوانین اور آداب کے متعلق جو بائبل میں روشنی ڈالی گئی ہے۔سب تفصیلات آثار قدیمہ سے سچی ثابت ہو رہی ہیں۔اسی طرح مثلاً یہ کہ انہوں نے غلّہ کے لئے خاص گودام مقرر کر چھوڑے تھے۔پرانے آثار سے ایسے کئی گوداموں کا پتہ چلا ہے۔( ضمناً یہ امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآنِ کریم نے مصریوں کے مذہب کے متعلق بھی روشنی ڈالی ہے کہ وہ بادشاہ میں خدا کی صفات تسلیم کرتے تھے۔اور یہ امر بھی آثارِقدیمہ سے ثابت ہو گیا ہے) اسی طرح مصر کے جغرافیہ کے متعلق بائبل کی معلومات بہت حد تک درست ہیں۔پس یہ سب غالب طور پر درست تفصیلات جو بعض ایسے امور کے متعلق ہیں جو امتدادِ زمانہ کی وجہ سے مخفی ہو گئے تھے۔اور اب آثارِ قدیمہ سے ان کا پتہ چلا ہے۔بتاتی ہیں کہ بنی اسرائیل کا گہرا تعلق اس زمانہ کے مصر کے ساتھ تھا اور جو شبہات اب پیدا کئے جا رہے ہیں محض اِس وجہ سے ہیں کہ کیوں سو فیصدی تطابق انہیں ان واقعات سے نہیں جو نامکمل آثارِ قدیمہ سے یا نامکمل تاریخوں سے ان معترضین کو معلوم ہوئے ہیں۔اور یہ