تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 479

صرف ایک ہی وجہ تھی کہ اس کی نسل سے بھی اس عہد نے پورا ہونا تھا پس آپ کا حضرت اسمٰعیل ؑ کا بھی ختنہ کرانا ایک صاف ثبوت ہے اس بات کا کہ حضرت اسمٰعیل ؑ بھی آپ کی اولاد میں سے تھے جس کے ساتھ وہ عہد پورا ہونا تھا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بنو اسمٰعیل میں ختنہ کا رواج ہمیشہ رہا اور یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حکم نہ صرف اسمٰعیل کے لئے بلکہ اس کی اولاد کے لئے بھی سمجھا گیا تھا۔پس عہد جس طرح حضرت اسحاق ؑکی اولاد کے لئے تھا۔اسی طرح حضرت اسمٰعیل ؑ کی اولاد کے لئے بھی تھا۔باقی رہا پیدائش باب ۱۷ آیت۲۱ کا مطلب کہ ’’میں اپنا عہد اضحاق سے باندھوںگا‘‘ سو دوسرے حالات کو مدِّنظر رکھ کر آیت کا یہ مطلب ہے کہ اس ابدی عہد کی ابتداء بنو اسحاق سے شروع ہو گی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ عہد جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کے متعلق تھا ابتداء میں بنو اسحاق سے ہی پورا ہوا۔لیکن بائیبل سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عہد بنو اسمٰعیل کے بارہ میں بھی تھا۔کیونکہ ختنہ کا حکم انہیں بھی دیا گیا تھا جیسا کہ لکھا ہے:۔’’جب اس کے بیٹے اسمٰعیل کا ختنہ ہوا تووہ تیرہ برس کا تھا۔‘‘ ( پیدائش باب ۱۷ آیت۲۵) اور اسمٰعیل کے متعلق بھی برکت کا وعدہ کیا گیا تھا جیسا کہ لکھا ہے: ’’اور اسمٰعیل کے حق میں بھی میں نے تیر ی دعا سُنی۔دیکھ میں اُسے برکت دوں گا اور اُسے برومند کروںگا اور اُسے بہت بڑھائو ںگا۔‘‘ (پیدائش باب۱۷ آیت۲۰) اسی طرح پیدائش باب۲۱ آیت ۱۸میں لکھا ہے:۔’’میں اس (اسمٰعیل) کو ایک بڑی قوم بنائوں گا۔‘‘ پس ضروری تھا کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بھی اس برکت میں شامل ہوتے گو وہ اس عہد میں شامل نہ تھے جو کنعان کے قبضہ کے متعلق تھا۔کیونکہ وہ وعدہ صرف اسحاق ؑ کی نسل کے ساتھ پورا ہونا تھا۔لیکن یہود و نصاریٰ غلطی سے یہ سمجھنے لگ گئے کہ برکت کا عہد صرف اسحاق ؑ کی اولاد سے تھا۔حالانکہ ابراہیمی عہد کی دو۲ شکلیں تھیں ایک مجمل اور ایک مفصّل۔مجمل عہد تو یہ تھا کہ میں تیری نسل کو برکت دوں گا اور نسل سے مراد اسحٰق اور اسمٰعیل دونوں تھے۔اور مفصّل عہد آگے دو۲ حصوں میں منقسم تھا۔اسحاق ؑ کی نسبت تو یہ عہد تھا کہ کنعان کی حکومت اسے نسلاً بعد نسلٍ حاصل ہوگی اور اسمٰعیل کی نسبت بائیبل صرف اتنا بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ میں اسے برکت دوں گا اور برومند کروں گا۔یہ برکت اُسے کس طرح دی گئی؟ اس کا جواب ہمیں بائیبل سے نہیں بلکہ قرآن کریم سے ملتا ہے قرآن کریم بتاتا