تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 480
ہے کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے متعلق یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اسے اور اس کی اولاد کو مکہ مکرمہ اور اس کے گرد و نواح پر حکومت دی جائے گی اور خدا تعالیٰ ان کے مرکز کو ہمیشہ دشمن کے حملہ سے محفوظ رکھے گا اور تمام علاقہ پر ان کی روحانی اور جسمانی حکومت ہو گی۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل میں سے ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرمائے گا۔جو تمام دنیا کی ہدایت کا موجب ہو گا۔پس یہ غلط ہے کہ بنو اسمٰعیل کے ساتھ برکت کا کوئی وعدہ نہ تھا بائیبل کی خود اندرونی شہادات بتا رہی ہیں کہ نسلِ اسمٰعیل کی ترقی کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔اور ضروری تھا کہ جس طرح بنو اسحاق کو ترقی دی گئی اسی طرح بنو اسمٰعیل کو بھی ترقی دی جاتی۔اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوتا۔باقی رہا یہ سوال کہ اگر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد سے کوئی وعدہ ثابت بھی ہو تو اس کا کیا ثبوت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔تو اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ کسی خاص قوم کے کسی بزرگ انسان کی اولاد سے ہونے کا حقیقتاً ایک ہی ثبوت ہوتا ہے اور وہ اس قوم کی روایات ہیں جو نسلاًبعدنسلٍ چلتی چلی جاتی ہیں تمام قوموں اور خاندانوں کے کسی خاص شخص سے متعلق ہونے کا اس کے سوا اور کیا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ قوم ایسا بیان کرتی ہے پھر اس معاملہ میں کیوں عربوں کے بیان کو تسلیم نہ کیا جائے جبکہ قریش کا دعویٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے بھی پہلے کا تھا کہ وہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور تمام عرب اس بات کو تسلیم کرتے تھے خود کعبہ میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا بُت بنا کر رکھا ہوا تھا پھر قریش کے بنی اسمٰعیل ہونے میں کیا شک ہو سکتاہے۔حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کوئی ایسی دنیوی شہرت نہ رکھتے تھے کہ خیال کیا جائے کہ عرب کی بعض اقوام نے اس عزت میں حصّہ لینے کے لئے اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کر دیا ہو۔پس ایک قوم کا دعویٰ جو صدیوں سے چلا آتا ہے کسی طرح ردّ نہیں کیا جا سکتا جبکہ جھوٹ کا کوئی محرک بھی دکھائی نہیں دیتا۔دوسرا ثبوت قریش کے بنو اسمٰعیل ہونے کا یہ ہے کہ اگر وہ جھوٹے طور پر بنو اسمٰعیل بن گئے تھے تو اصل بنواسمٰعیل ان کے اس قول کو ردّ کرتے لیکن کسی قوم کا ان کے دعویٰ کو ردّ کرنا ثابت نہیں۔سوم پیدائش باب۱۷ آیت۲۰ میں لکھا ہے کہ ’’میں اسماعیل کو ایک بڑی قوم بنائوں گا۔‘‘ اگر قریش آپ کی اولاد نہیں تو وہ بڑی قوم کون سی ہے جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔کیونکہ پیشگوئی چاہتی ہے کہ وہ قوم شناخت بھی ہو۔ورنہ اس کے پورا ہونے کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔پس چونکہ قریش ہی اس بات کے مدعی ہیں اس لئے ان کا دعویٰ ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا۔