تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 476

بھیجا تو صرف اس لئے کہ پہلے ایسا نبی بھیجنا مناسب نہیں تھا۔اس دعا میں ہمیں ایک عجیب بات نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف رُسُوْلًا فرمایا ہے رُسُلًا نہیں فرمایا حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی اپنی اولاد کے متعلق ایسی واضح تھی کہ وہ جانتے تھے کہ ان میں بہت سے رسول پیدا ہوںگے لیکن باوجود اس کے وہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں صرف ایک رسول کے مبعوث کئے جانے کی دُعا فرماتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر یہ بات کھل چکی تھی کہ خاتم النبیّین بنی اسمٰعیل میں سے آنا ہے اور وہی ایک رسول ہے جس کی کتاب پر تمام شرائع کا اختتام ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ میرے اس قسم کے الفاظ پر غیر مبائعین کہا کرتے ہیں کہ دیکھو یہ بھی مانتے ہیں کہ رسول تو ایک ہی ہے مگر ہمیں اس سے کبھی انکار نہیںہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی ایک ایسے رسول ہیں جن کا سلسلہ نبوت قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔اور ہم تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کو بھی آپ کی نبوت کے تابع اور اس کا ظل سمجھتے ہیں اور ظل اصل سے کوئی علیحدہ چیز نہیں ہوتی۔پس اب کوئی نیا حکم نہیں کوئی نئی تعلیم نہیں کوئی نیا ارشاد نہیں کوئی نئی ہدایت نہیں۔وہی ارشاد۔وہی ہدایت۔وہی تعلیم اور وہی احکام ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دنیا میں لائے تھے اور جو قرآن کریم میں بیان ہیں اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مستقل نبی مانتے تو پھر تو اس بات کی ضرورت تھی کہ ہر چیز نئی ہوتی۔مگر یہاں تو سب کچھ وہی ہے جو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا۔صرف اتنی بات ہے کہ چونکہ لوگوں نے آپ ؐ کی تعلیم کو بھلا دیا تھا اور اس پر عمل نہیں کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے بروزِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج دیا پس یہ رسالت کوئی الگ نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہی رسالت ہے اور اگر ضرورت کے ماتحت ایسے کئی نبی بھی آجائیں تو کوئی ہرج نہیں کیونکہ ان کے ذریعہ کوئی نیا دین جاری نہیں ہو گا۔بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین ہی زندہ ہو گا۔بہر حال رُسُوْلًا کا لفظ بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو الہام سے یہ بات معلوم ہو چکی تھی کہ اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے ایک عظیم الشان رسول مبعوث ہونے والا ہے۔اَب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ان کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ ایک نبی اُن میں مبعوث ہونے والا ہے تو انہوں نے اس کے لئے دعا کیوں کی۔سو جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں الہام کا پورا کرنا خود اپنی ذات میں ایک نیکی ہوتا ہے اور الہام کے پورا کرنے کے لئے سب سے پہلا کام جو انسان کر سکتا ہے وہ یہی ہے کہ وہ دُعا سے کام لے اور پھر اپنے عمل اور کوشش سے اُسے پورا کرے۔نادان خیال کرتا ہے کہ الہٰی وعدہ کے بعد کوشش چھوڑ دینی چاہیے۔حالانکہ