تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 475

وَ الْحِكْمَةَ اور اے ہمارے ربّ! جب وہ رسول آئیگا انسانی عقل تیز ہو چکی ہو گی۔اس وقت انسان بچہ نہیں ہو گا کہ اُسے یہ کہا جائے کہ اُٹھ اور فلاں کام کر اور جب وہ کہے کہ میں کیوں کروں تو اُسے کہا جائے کہ آگے سے بکواس مت کرو۔عیسیٰ ؑ کے زمانہ میں اور موسیٰ ؑ کے زمانہ میں ایسا ہو چکا ہے۔مگر جب وہ نبی آئے گا اس کا زمانہ انسانی عقل کے ارتقاء کا زمانہ ہو گا۔اس وقت بندہ یہ نہیں سُنے گا کہ کر۔بلکہ پوچھے گا کہ کیوں کروں۔پس اے خدا تو اس کو موسیٰ ؑ کی طرح صرف شریعت ہی نہ دیجیئو۔نوح ؑ کی طرح صحف ہی نہ دیجیئو دائود ؑ کی طرح احکام ہی نہ دیجیئو بلکہ ساتھ ہی اُن کی وجہ بھی بتا دیجئیو اور ان احکام کی حکمت بھی واضح کیجیئو۔تاکہ نہ صرف اُن کے جسم تیرے حکم کے تابع ہوں بلکہ ان کا دماغ اور دل بھی تیرے حکم کا تابع ہو اور وہ سمجھیں کہ جو کچھ کہا گیا ہے فلسفہ کے ماتحت کہا گیا ہے۔عقل کے ماتحت کہا گیا ہے۔ضرورت کے ماتحت کہا گیا ہے۔فوائد کے ماتحت کہا گیا ہے۔وَ يُزَكِّيْهِمْ اور ان کو پاک کرے۔دماغ کو ہی پاک نہ کرے بلکہ حکمت سکھا کر اُن کے قلوب کو بھی محبت الٰہی سے بھردے۔یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ میں جذب کر دیں الہٰی صفات اُن میں پیدا ہو جائیں اور وہ چلتے ہوئے انسان نظر نہ آئیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ایک آئینہ دکھائی دیں اور وہ ایسے ذرائع اختیار کرے جن سے قوم کی ترقی کے سامان پیدا ہوں۔اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔اے ہمارے رب! ہم نے جو چیز مانگی ہے بظاہر یہ نا ممکن نظر آتی ہے اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسا کبھی نہیں ہوا لیکن ہم خوب جانتے ہیں کہ تجھ میں طاقت ہے تو عزیز خدا ہے تو غالب خدا ہے اور تیری شان یہ ہے کہ ؎ جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تو ایسا کر سکتا ہے۔چونکہ تو عزیز خدا ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ایسا رسول آئے۔اس پر اعتراض ہو سکتا تھا کہ اگر پہلے خدا نے ایسا رسول نہیں بھیجا تو اب کیوں بھیجے اور اگر پہلے بھی ایسا رسول بھیجنا ضروری تھا تو پھر ایسے رسول کو نہ بھجوا کر بنی نوع انسان پر کیوں ظلم کیا گیا۔اس اعتراض کا الحکیم کہہ کر ازالہ کر دیا کہ ہم جانتے ہیں پہلے ایسا رسول آہی نہیں سکتا تھا پہلے لوگ اس قابل ہی نہیں تھے کہ محمدؐی تعلیم کو برداشت کر سکیں۔پس ایک طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عزیز کہہ کر خدائی غیرت کو جوش دلایا اور کہا کہ ہمارا یہ مطالبہ غیر معقول نہیں۔ہم جانتے ہیں کہ تو ایسا کر سکتا ہے مگر ساتھ ہی حکیم کہہ کر بتا دیا کہ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر تو نے پہلے ایسا رسول نہیں بھجوایا تو نعوذ باللہ تو نے بخل سے کام لیا بلکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر تو نے پہلے ایسا نبی نہیں