تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 469

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً اے ہمارے رب ! اور( ہم یہ بھی التجاء کرتے ہیں کہ )ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار (بندہ) بنا لے اور ہماری اولاد میں سے بھی لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَيْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ اپنی ایک فرمانبردار جماعت (بنا) اور ہمیں ہمارے (مناسب حال) عبادت کے طریق بتا اور ہماری طرف (اپنے ) فضل کے التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۰۰۱۲۹ ساتھ توجہ فرما۔یقیناً تو (اپنے بندوں کی طرف) بہت توجہ کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔حَلّ لُغَات۔مُسْلِمٌ : فرمانبردار کو کہتے ہیں۔(اقرب) اُمَّۃٌ :کے معنے جماعت کے ہوتے ہیں۔(اقرب) اَرِنَا: ہمیں دکھادے۔رُؤْیَۃ آنکھوں کی بھی ہوتی ہے اور دل کی بھی۔یہاں دونوں ہی مراد ہو سکتی ہیں۔مگر آگے چونکہ مَنَاسِک کا لفظآیا ہے اس لئے بجائے دکھادے کے ہم یوں کہیں گے ہم پر ظاہر کر دے یا ہمیں بتا دے۔مَنَاسِکُ: مَنْسَکٌ کی جمع جس کے معنے عبادت کے ہوتے ہیں۔یا وہ تمام حقوق جو خدا تعالیٰ کے حضور ہمیں ادا کرنے چاہئیں۔(اقرب) تَوْبَۃ: جب یہ لفظ بندہ کے لئے آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں بندہ کا خدا تعالیٰ کی طرف سچے دل سے جھکنا اور اس کی طرف رجوع کرنا۔اور جب یہ خدا تعالیٰ کے لئے آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا بندوں پر رحم کرنا۔اس میں اور رحم میں یہ فرق ہے کہ رحیم کا لفظ نیکی کے بعد روحانی ترقیات دینے پر دلالت کرتا ہے اور توبہ کا لفظ اُن ترقیات پر دلالت کرتا ہے جو نیکی کے اعلیٰ مقام تک نہ پہنچیں بلکہ اس سے نیچے رہیں۔تَوَّاب زیادہ تر بدیوں اور کمزوریوں کے دور کرنے کے موقع پر استعمال ہوتا ہے اور روحانی قابلیتوں اور طاقتوں کے پیدا کرنے کے موقع پر رحیم کا لفظ آتاہے یہ دونوں الگ الگ قسم کی رحمت ہے۔رحیم ارتقاء اور زیادتی کے لئے اور توّاب نقصان سے پاک ہو نے کے لئے آتا ہے۔گویا جب انسان نقصان سے پاک ہو جاتا ہے اور روحانی ارتقاء کی طرف مائل ہو جاتا