تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 466
یُضَیِّعُنَا۔ثُمَّ رَجَعَتْ فَانْطَلَقَ اِبْرَاھِیْمُ حَتّٰی اِذَا کَانَ عِنْدَ الثَّنِیَّۃِ حَیْثُ لَا یَرَوْنَہٗ اِسْتَقْبَلَ بِوَجْھِہِ الْبَیْتَ ثُمَّ دَعَا بِھٰؤُلَٓاءِ الْدَّعْوَاتِ وَرَفَعَ یَدَیْہِ فَقَالَ، رَبَّنَا اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّ یَّـــتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ(بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب یزفون النسلان فی المشی )یعنی حضرت ہاجرہؓ نے کہا۔اے ابراہیم! تم کہاں جا رہے ہو۔کیا تم ہمیں ایک ایسی وادی میں چھوڑ کر جا رہے ہو جہاں نہ کوئی انسان ہے اورنہ کوئی اَور چیز۔اور انہوں نے بار بار یہ سوال کیا۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام شدّتِ رقت کی وجہ سے جو اُن پر طاری تھی اس کا جواب نہ دے سکے بلکہ اُن کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے اس پر حضرت ہاجرہؓ نے کہا۔بتائیں کیا خدا نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا۔ہاں! تب حضرت ہاجرہؓ نے کہا۔کہ پھر ہمیں کوئی ڈر نہیں۔خدا تعالیٰ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔یہ کہہ کر وہ واپس چلی آئیں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام موڑ پر پہنچے اور ہاجرہ ؓ اور اسمٰعیل ؑ اُن کی نظر سے اوجھل ہو گئے تو انہوں نے خانہ کعبہ کی طرف منہ کیا (اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہاں خانہ کعبہ کا نشان موجود تھا گو عمارت نہیں تھی )اور ہاتھ اُٹھا کہ یہ دُعا کی کہ رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْۤ اِلَيْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ۔(ابراہیم :۳۸ ) یہ حدیث بھی بتاتی ہے کہ خانہ کعبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بنایا ہوا نہیں بلکہ انہوں نے صرف اس کی عمارت کی تجدید کی تھی۔اور یہ کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی پہلے کا ہے اور اس کی ابتداء ایسے زمانہ سے وابستہ ہے جس کا علم صرف خدا تعالیٰ کو ہی ہو سکتا ہے۔تاریخ اس کو بیان نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس کی طرف منہ کر کے خاص طور پر دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل اور رحم طلب کیا۔میور جیسا متعصّب مصنّف بھی اپنی تصنیف ’’لائف آف محمد ‘‘ میں تسلیم کرتا ہے کہ۔’’مکّہ کے مذہب کے بڑے بڑے اصولوںکو ایک نہایت ہی قدیم زمانہ کی طرف منسوب کرنا پڑتا ہے۔گو ہیروڈوس(مشہور یونانی جغرافیہ نویس) نے نام لے کر کعبہ کا ذکر نہیں کیا مگر وہ عربوں کے بڑے دیوتائوں میں سے ایک دیوتا اللَّات(یعنی خدائوں کا خدا) کا ذکر کرتا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مکّہ میں ایک ایسی ہستی کی پرستش کی جاتی تھی جسے بڑے بڑے بتوں کا بھی خدا مانا جاتا تھا۔‘‘() پھر لکھتا ہے کہ مشہور مؤرخ ڈایوڈواس سکولس جو ساٹھ سال قبل مسیح گذرا ہے اُس نے بھی کہا ہے کہ