تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 463

اِس آیت سے یہ استدلال بھی ہوتا ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بڑا زور دیا کرتے تھے۔کہ انبیاء کے انکار کی وجہ سے دنیا میں عذاب نہیں آتا بلکہ عذاب محض شرارت اور فساد کی وجہ سے آتا۔اگر لوگ تقویٰ کی زندگی بسر کریں تو محض انبیاء کے انکار کی وجہ سے اس دنیا میں اُن پر عذاب نہیں آسکتا۔اصل بات یہ ہے کہ انسان جسم و رُوح سے مرکب ہے وہ جسمانی اطاعت کے ساتھ جسمانی دنیا میں سکھ پا لیتا ہے۔لیکن جب خالص روحانی دنیا آتی ہے تو چونکہ اس نے اس زندگی کا کام نہیں کیا ہوتا اس لئے وہاں اُسے تکلیف پہنچتی ہے مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيْلًا میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں امن قائم کرنے کا یہ نہایت ہی اعلیٰ درجے کا ذریعہ بتایا ہے کہ اختلاف مذہب دنیوی تعلقات کو توڑ دینے کا موجب نہیں ہونا چاہیے۔اگر دنیا اس پر عمل کرے اور فتنہ و فساد میں حصہ نہ لے تو تمام مذہبی جھگڑے اور فسادات مٹ سکتے ہیں۔ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِسے بھی معلوم ہوتا ہے کہ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيْلًا سے مراد کچھ دن نہیں بلکہ دنیوی زندگی ہے کیونکہ یہاں فرماتا ہے میں انہیں مضطر کرکے عذاب کی طرف لے جائوں گا۔اور عذاب کی طرف انسان موت کے بعد ہی جا سکتا ہے۔بہر حال خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور کوئی جگہ انکی پناہ کے لئے نہیں رہے گی۔وہ ایک ہی جگہ لیجائے جائیں گے اور وہ عذاب کی جگہ ہو گی اور وہ بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔گھیر گھار کر اور مجبور کر کے لے جانا اپنے اندر ایک حکمت رکھتا ہے۔بظاہر اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مجبور کر کے عذاب کی طرف لے جاتا ہے۔لیکن اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے اس قانون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب انسان متواتر کوئی بُرا کام کرتا ہے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر اس کی نیکی کی قوتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔اور وہ بدیوں کی طرف کھچا چلا جاتا ہے۔جو لوگ اس بات کو نہیں مانتے وہ کہا کرتے ہیں کہ نیکی کا کیا ہے وہ تو ہم جب چاہیں کر سکتے ہیں حالانکہ یہ درست نہیں۔قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ گناہ کوئی مفرد چیز نہیں بلکہ وہ ایک بیج کی طرح ہوتا ہے جس طرح ایک بیج درخت پیدا کر دیتا ہے اور پھر اس سے آگے اور درخت پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح ہر گناہ اپنے ظہور کے بعد اور گناہ پیدا کرتا ہے۔یہی حال نیکی کا ہے۔ہر نیکی اپنے ظہور کے بعد اور نیکیاں پیدا کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کا رحیم ہونا نیکیوں کے بڑھانے پر دلالت کرتا ہے اور اس کا قہار ہونا بدیوں کے بڑھانے پر دلالت کرتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ انسان کو بدی پر مجبور کرتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ متواتر بدیوں کے نتیجہ میں انسان اپنے آپ کو ایسے مقام پر پاتا ہے جس سے اگر وہ بچنا بھی چاہے تو نہیں بچ سکتا۔پس اَضْطَرُّہٗ میں انسان کو مایوس کرنا مراد نہیں بلکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کو بدیوں سے بچ کر رہنا چاہیے۔ورنہ اس پر ایسی حالت