تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 462
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہایت احتیاط سے دعا کی اور کہا کہ الہٰی تو صرف اُن کو ثمرات عطا فرما جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہوں۔غالباً آپ کا منشاء یہ ہو گا کہ دوسرے لوگ بھوک وغیرہ سے تنگ آکر خود ہی مکّہ سے نکل جائیں اور اس طرح یہ مقام ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کے پاک بندوں سے آباد رہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے رزق کے معاملہ میں اس تخصیص کو پسند نہ فرمایا۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مِنَ الثَّمَرٰتِ کیوں کہا؟ آخر میووں سے تو کوئی نہیں جیتا۔روٹی سے انسان زندہ رہتا ہے مگر انہوں نے روٹی نہیں مانگی بلکہ پھل مانگا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ مکّہ وہ مقام ہے جہاں کوئی چیز پیداہی نہیں ہوتی تھی اور باہر سے بھی سخت چیزیں تو وہاں پہنچ جاتی تھیں لیکن نازک چیزیں وہاں پہنچتے پہنچتے گل سڑ جاتی تھیں۔پس انہوں نے روٹی مانگنے کی بجائے پھل مانگے جو ایک نہایت نازک چیز ہے اور سمجھا کہ جب میوے آجائیںگے تو اور چیزیں تو خود بخود آجائیں گی۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہاں ہر ملک کے میوے ملتے ہیں۔پس میوے ملنے سے مراد یہ ہے کہ انکو میوے بھی مل جائیں اور باقی اشیاء بھی مل جائیں۔گویا میووں میں ہی باقی اشیاء کا ذکر آجاتا ہے۔قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيْلًا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رزق کے معاملہ میں ہمارا اَور حکم ہے اور نبوت اور امامت کے معاملہ میںاَور حکم ہے۔نبوت اور امامت صرف نیک لوگوں کو ملتی ہے مگر رزق ہر ایک کو ملتا ہے پس جو کافر ہو گا دنیا کی روزی ہم اس کو بھی دیں گے چنانچہ سینکڑوں سال تک مکّہ کے لوگ مشرک رہے مگر خدائی رزق ان کو بھی پہنچتا رہا ہاں تیری نسل ہونے کی وجہ سے وہ اُخروی عذاب سے نہیں بچ سکتے۔مر جائیں گے تو جہنم میں ڈالے جائیں گے اور وہ بہت ہی بُرا ٹھکانہ ہے۔اس جگہ اُمَتِّعُہٗ قَلِیْلًا سے صرف چند دنوں کا رزق مراد نہیں بلکہ اس سے دنیوی نفع مراد ہے جو مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ کا مصداق ہوتا ہے۔مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ میں یا تو فاء زائدہ ہے یا مَنْ کی خبر محذوف ہے اور اصل عبارت یوں ہے کہ اَرْزُقُہٗ فَاُمَتِّعُہٗ یعنی میں اُسے رزق بھی دوں گا اور اس کے علاوہ ہر قسم کی دوسری منفعت بھی اُسے پہنچتی رہے گی۔مگر روحانی فوائد جب تک کوئی شخص انبیاء سے تعلق نہیں رکھے گا اُسے نہیں ملیں گے۔گویا اس جگہ فاء عطف کے لئے ہے۔تورات میں اس دعا کا کہیں ذکر نہیں آتا کیونکہ یہود نے بنو اسمٰعیل کی دشمنی کی وجہ سے تورات سے مکّہ کا ذکر ہی اُڑا دیا ہے۔البتہ خانہ کعبہ کا ذکر اُس میں بعض جگہ مل جاتا ہے۔