تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 440

ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی اطاعت فرض کی ہوئی ہے۔اِدھر وہ نبی بنتا ہے اور اُدھر اُس کی بات کا ماننا واجب ہو جاتا ہے۔اِن معنوں کی رُو سے امامت نبوت سے علیٰحدہ کوئی مقام نہ رہا بلکہ امامت و نبوت دونوں لازم و ملزوم قرار پاتی ہیں۔پھر ہمیں قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک امامت نبوت سے بھی پہلے ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ(النّساء:۶۰) یعنی اے مومنو! تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔اور جو اولی الامر اور غیر رسول ہیں اُن کی بھی اطاعت کرو۔پہلے اللہ پھر رسول اور پھر اُن سے نیچے اولی الامر غیر رسول کو رکھا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو رسول نہیں ہوتے۔مگر اُن کی اطاعت بھی ضروری ہوتی ہے۔اگر امام کے معنے صرف مطاع کے لئے جائیں تو اِس قسم کی امامت تو نبوت سے بھی ادنیٰ ہوئی۔جو امامت نبوت کے ساتھ لازم ہوتی ہے وہ نبوت کے ساتھ ہی حاصل ہو جاتی ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص نبی تو ہو مگر اُسے امامت نہ ملی ہو۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک شخص امام ہو مگر اُسے نبوت نہ ملی ہو۔مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص نبی اور رسول ہو اور پھر امامت سے محروم ہو۔جیسا کہ وَمَااَرْسَلْنَامِنْ رَسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ سے ظاہر ہے۔اب ہمیںدو۲ باتوں میں سے ایک بات ضرور ماننی پڑتی ہے یا تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا یہ نبوت سے پہلے کی بات ہے یا نبوت کے بعد کی بات ہے اگر نبوت کے بعد کی بات ہے تو اس صورت میں اس کے وہ معنے نہیں ہو سکتے جو عام طور پر کئے جاتے ہیں۔بلکہ اس کے کچھ اور معنے ہوں گے۔اور واقعہ یہی ہے کہ اِنِّيْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا نبوت کے بعد فرمایا گیا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعض کلمات کے ذریعہ آزمائش کی گئی تو ابراہیم علیہ السلام نے اُن احکام الٰہی کو پورا کر دیا۔اور انبیاء کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ نبوت کے ملنے سے پہلے امتحان نہیں لیاجاتا۔بلکہ بعد میں لیا جاتا ہے اس لئے باقی انبیاء کے طریق کو دیکھتے ہوئے ماننا پڑتا ہے کہ یہ الہام بعد کا ہے۔اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آیا اس کے کوئی اور معنے ہو سکتے ہیں یا نہیں۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ ہر لفظ دو۲ قسم کے معنے رکھتا ہے۔اول اضافی دوم غیر اضافی۔اضافی معنے ہمیشہ اضافت کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں۔مثلاً جب ہم سردار کا لفظ بولتے ہیں تو اس کے عام طور پر یہ معنے ہوتے ہیں کہ جو کسی کے اوپر افسر ہو۔لیکن سردار ایک گائوں کا بھی ہوتا ہے ایک تحصیل کا بھی ہوتا ہے۔ایک ضلع کا بھی ہوتا ہے۔ایک صوبے کا بھی ہوتا ہے ایک ملک کا بھی ہوتا ہے اور پھر کئی ملکوں کا بھی ہوتا ہے۔پس یہ ایک عام لفظ ہے جو چھوٹے بڑے سب کی سرداری پر دلالت کرتا ہے اور کسی کی طرف اضافت کرنے کے بغیر کوئی خاص معنے معیّن نہیں کرتا۔مگر جب ہم یہ کہیں کہ چوہڑوں کا سردار یا چپڑاسیوں کا سردار یا جرنیلوں کا سردار تو اس کے معنے معیّن ہو جاتے