تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 437

کے بجاے عدل کے ساتھ یُقْبَلُ کا لفظ رکھا گیا۔یعنی وہ تو چاہیں گے کہ بدلہ لے لیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں کرے گا۔اسی طرح شفاعت کے ساتھ لَاتَنْفَعُھَا کے الفاظ رکھ دیئے کہ شفاعت کرنے والے دوسروں کی تو شفاعت کریںگے مگر ان کے حق میں انہیں اِذْن ہی نہیں دیا جائے گا۔کہ شفاعت اُن کو فائدہ دے سکے گویا نہ ان کے اعمال اُن کے کام آئیں گے اور نہ شفاعت ان کو کوئی نفع دےگی۔شفاعت کی قبولیت درحقیقت کلّی طور پر ہوتی ہے اگر شفاعت قبول ہو جائے تو انسان جنت میں چلا جاتا ہے لیکن اعمال صرف جزئی طور پر فائدہ دے سکتے ہیں یعنی جتنے عمل اچھے ہوں اتنے کام آسکتے ہیں پس فرمایا کہ ان کو قلیل طور پر بھی نفع نہیں ہو سکتا اور نہ شفاعت کے ذریعہ کلّی طور پر نفع ہو سکتا ہے۔تیسری صورت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے معاف کر دے۔اس کے لئے فرما دیا کہ وَلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی انہیں کوئی مدد نہیں دی جائیگی۔غرض تین ہی صورتیں ہو سکتی تھیں اور تینوں کی نفی کر دی گئی ہے یعنی نہ تو ان کے حق میں شفاعت ِ انبیاء ہو گی اور نہ ان کے اعمال اُن کے کام آئیں گے اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں کوئی مدد حاصل ہو گی۔صرف یہی صورت ان کی نجات کی تھی کہ اوّل اللہ تعالیٰ اپنا فضل نازل کر کے انہیں معاف کر دے۔دوم انبیاء اُن کی شفاعت کر کے انہیں اپنے ساتھ ملا لیں۔سوم ان کے اپنے اعمال انکے کام آجائیں اور وہ انکو اللہ تعالیٰ کے فضل کا مستحق بنا دیں۔مگر اُن کے لئے یہ تینوں راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔نہ ان کی شفاعت ہوگی نہ ان کے اعمال ایسے ہیں کہ وہ انہیں بچا سکیں اور نہ ہم مدد دیںگے۔وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّيْ اور( اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ابراہیم ؑ کو اس کے رب نے بعض باتوں کے ذریعہ سے آزمایا اور اس نے ان کو پورا جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ١ؕ قَالَ کردکھایا (اس پر اللہ نے ) فرمایا کہ میں تجھے یقیناً لوگوں کا امام مقرر کرنے والا ہوں (ابراہیم ؑ نے) کہا اور میری لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ۰۰۱۲۵ اولادسے بھی (امام بنا ئیو) (اللہ نے ) فرمایا (ہاں! مگر) میرا وعدہ ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔حَلّ لُغَات۔اِبْتَلٰی کے دو معنے ہیں۔اوّل کسی کی مخفی باتوں کو معلوم کرنا۔دوم کسی کی پوشیدہ قابلیتوں کو