تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 426
ہیں مگر دلیل اس کے لئے کافی ہوتی ہے جو ماننے کے لئے تیار ہو۔لیکن جو شخص یہ کہتا ہو کہ خواہ کچھ ہومیں نے ماننا ہی نہیں اس کو دلیل کچھ کام نہیں دیتی۔جیسا کہ یہود کے دو علماء ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آئے جب واپس گئے تو اُن میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا معلوم تو سچا ہی ہوتا ہے مگر جب تک دم میں دم ہے ماننا نہیں۔دوسرے نے کہا میرا بھی یہی ارادہ ہے(سیرۃ النبی لابن ہشام شہادۃ صفیۃ)۔پس جب کوئی شخص یہ ارادہ کر لے کہ ماننا نہیں تو سب دلائل بے کار ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تجھے کس طرح ذمہ دار قرار دے سکتے ہیں۔ہم نے تو انسان کو آزاد بنایا ہے اور ہم نے اُسے کامل مقدرت اور اختیار دیا ہے کہ چاہے تو وہ قبول کرے اور چاہے تو ردّ کر دے۔اور پھر ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ ہم نے نہیں ماننا۔ایسے لوگوں کی موجودگی میں ہم تجھے کس طرح ذمہ دار قرار دے سکتے ہیں۔وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ اور (یاد رکھ کہ) جب تک تو ان کے دین کی پیروی نہ کرے۔یہودی تجھ سے ہر گز خوش نہ ہوں گے اور نہ ہی مسیحی مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَىِٕنِ (خوش ہونگے) تُو (ان سے) کہہ دے کہ اللہ کی ہدایت ہی یقیناً اصل ہدایت ہے۔اور اگر تو (اے مخاطب) اس اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا علم کے بعد (بھی) جو تیرے پاس آچکا ہے ان کی خواہشات کی پیروی کرے گا تو اللہ (کی طرف ) سے لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ۰۰۱۲۱ نہ کوئی تیرا دوست ہوگا اور نہ مدد گار۔حَلّ لُغَات۔ھَوٰی محاورہ میں ایسی خواہش کے معنوں میں آتا ہے جو گِری ہوئی ہوتی ہے۔اصل میں ھَوْء گڑھے یا قعر کی چیز پر دلالت کرتا ہے۔(اقرب) اس لئے یہ لفظ گِری ہوئی خواہش کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس میں بتایا ہے کہ اُن کی یہ خواہش نیچے کی طرف لے جانے والی ہے۔قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اصلی اور حقیقی معنے بھی الفاظ میں مدِّنظر رکھتا ہے۔