تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 425
دوسرے معنے یہ ہیں کہ ہم نے تجھے اس حال میں بھیجا ہے کہ تو ہی اس بات کا حق دار تھا کہ تجھے بھیجا جاتا اور تجھ پر کلامِ الہٰی نازل ہوتا۔یہ اَوْ تَاْتِيْنَاۤ اٰيَةٌ کا جواب ہے۔فرماتا ہے کہ چونکہ تو ہی حقدار تھا اس لئے ہم نے تجھے بھیج دیا۔وہ لوگ حقدار نہ تھے۔اگر وہ حقدار ہوتے تو ہم ان کا حق انہیں دے دیتے اور انہیں بھیج دیتے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی لوگ پھر کس درجہ میں ہیں؟ سواس کے متعلق فرماتا ہے کہ باقی دو۲ درجوں میں ہیں۔اول اگر وہ اس مستحق شخص کے ذریعہ اس کلام کو مان لیں گے تو بشارات سے حصہ لیں گے۔دوم اگر وہ نہیں مانیں گے تو منکرین میں داخل ہو کر خدا تعالیٰ کے عذاب سے حصہ پائیں گے۔اسی لئے فرمایا کہ تو بشیر اور نذیر ہے۔یعنی کچھ لوگوں کے لئے تو بشارتیں لایا ہے اور کچھ لوگوں کے لئے انذار لایا ہے یہ دو قسم کی آیات ہیں جو بعض کو بچانے والی اور بعض کو تباہ کرنے والی ہیں۔بشارت والی آیات پہلے ہوتی ہیں اور انذار والی آیات پیچھے ہوتی ہے۔پہلے ُتو بشیر ہے اس لئے پہلے بشارت والی آیات آئیں گی پھر ُ تو نذیر ہے جس کے نتیجہ میں انذار والی آیات آئیں گی۔یہ قانونِ قدرت ہے کہ اگر بعض کو بچانا اور بعض کو تباہ کرنا ہو تو پہلے بچانے والی آیات کا ظہور ہوتا ہے تاکہ جنہوں نے بچنا ہے وہ بچالئے جائیں۔غرض فرماتا ہے۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تیرے تین مقامات ہیں۔اول : تجھے اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ کا مقام حاصل ہے۔دوم : بشیر ہونے کا مقام حاصل ہے جس کا تعلق اُن بندوں سے ہے جو ایمان کی وجہ سے بچائے جاتے ہیں۔سوم : نذیر ہونے کا مقام ہے جس کا اُن بندوں سے تعلق ہے جو انکار کرنے کی وجہ سے تباہ کر دیئے جاتے ہیں۔بِالْحَقِّ کے ماتحت تجھ پر آیات کا نزول ہوتا ہے۔بشیر ہونے کی وجہ سے رحمت کی آیات کا نزول ہوگا اور پھر نذیر ہونے کی وجہ سے عذاب اور تباہی والی آیات کا نزول ہو گا۔وَ لَا تُسْـَٔلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِيْمِ۔فرماتا ہے ہمارارسول صرف کلامِ الٰہی پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔لوگوں سے منوانا اس کا کام نہیں اگر وہ سب لوگوں کو نہ منوا سکے اور کچھ لوگ رہ جائیں اور اپنے اعمال کی وجہ سے جہنم کے موردبن جائیں تو یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں کیونکہ وہ سب کی نجات کا ٹھیکیدار نہیں۔وہ تو مبلغ بنا کر بھیجا گیا ہے جو اس کے ذریعہ مان لیں گے وہ بچالئے جائیں گے اور نہ ماننے والے آہستہ آہستہ تباہ کر دیئے جائیں گے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تیرے پاس حق ہے اور تیرے ماننے والوں کے لئے کامیابی اور تیرے منکروں کے لئے تباہی اور ناکامی مقدر ہے۔اور یہ وہ نشانات ہیں جو تیری صداقت کے لئے ظاہر کئے گئے