تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 39
طرف تھی۔نہ کہ مغرب کی طرف۔ایک مختصر نقشہ اس وقت کی آبادی کا نیچے دیا جاتا ہے۔اِس نقشہ سے اچھی طرح سمجھ میں آ سکتا ہے کہ کنعان جس کی طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم گئی تھی نیل کے شمال مشرق کی طرف ہے اور جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے۔فراعنہ کے وقت میں اُن کا صدر مقام گوشن کے علاقہ میں تھا جسے وادی ثمیلات بھی کہتے ہیں۔(انسا ئیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ رعمسیس) اور یہ وادی دریائے نیل کے مشرق میں ہے اور اِس جگہ سے جو شخص کنعان کو جائے اسے دریائے نیل سے گزرنا ہی نہیں پڑتا نیل اس کے مغرب میں رہ جاتا ہے۔پس اِس آیت میں دریائے نیل کے گزرنے کا ذکر نہیں بلکہ کسی دوسرے پانی سے گزرنے کا سوال ہے۔اور چونکہ اِس مقام سے لے کر قادس تک جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام گئے تھے کوئی دریا واقع نہیں (جیسا کہ نقشہ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہو سکتا ہے)