تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 424
اگراسے فاعل کا حال قرار دیا جائے تو اس کے معنے یہ ہونگے کہ ہم نے تجھے ایسی حالت میں بھیجا ہے کہ حق ہمارے ساتھ ہے۔اس کے آگے دو۲ مفہوم ہیں ایک یہ کہ ہم نے تجھے ایسے حال میں بھیجا ہے کہ حق کا خزانہ صرف ہمارے ہی پاس ہے کسی اور کے پاس نہیں۔اگر کوئی اور شخص تعلیم بنا کر پیش کرتا تو اس میں کئی قسم کی غلطیوں کی آمیزش ہوتی اور وہ دنیا کو تباہ کر دیتی۔پس خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی ایسی سچی تعلیم نہیں دے سکتا تھا جس میں جھوٹ کی کوئی ملونی نہ ہوتی۔اگر اور کوئی تعلیم دیتا تو یقیناً اُس میں دانستہ یا نادانستہ کئی قسم کی غلطیاں ہوتیں پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اسے بھیجا ہے اور ایسے حال میں بھیجا ہے کہ ہمارے پاس حق ہے۔سچائی کا خزانہ ہمارے پاس ہے۔اس لئے ہمارا ہی حق تھا کہ ہم تعلیم بھیجتے۔کسی دوسرے کا حق نہیں تھا کہ وہ بھیجتا۔اگر کسی دوسرے کی طرف سے تعلیم آتی تو وہ دنیا کو تباہ کر دیتی۔کیونکہ اس میں جھوٹ کی ملونی ہوتی یا اس میں غلطیاں ہوتیں مگر جو تعلیم ہماری طرف سے آتی ہے وہ تباہی والی نہیں ہو سکتی بلکہ وہ حقیقی اور سچی تعلیم ہوتی ہے اور وہی دوسروں کو حقیقی ہدایت دے سکتی ہے۔پس یہ ہمارا ہی کام ہے کہ ہم لوگوں کو ہدایت کی تعلیم دیں۔بَالْحَقِّ کے دوسرے معنے مَعَ الْحَقِّ کے بھی ہو سکتے ہیں۔اس لحاظ سے اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ ّّ کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے تجھے بھیجا ہے اور اس حال میں بھیجا ہے کہ ہم ہی اسے بھیجنے کے حقدار تھے۔گویا جس طرح ہم بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ہیں اسی طرح ہم اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ یہ تعلیم بھیجتے۔آخر جس نے اس نظام کو پیدا کیا ہے اُسی کا حق ہے کہ وہ حکم دے دوسرے کا کیا حق ہے کہ وہ اس میں دخل دے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ہی اس تعلیم کو بھیجنے کے حقدارتھے کیونکہ ہم خالق اور مالک ہیں۔آریہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ رُوح و مادہ کا خالق نہیں لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ قانون بناتا ہے حالانکہ جب وہ خالق نہیں تو اس کا کیا حق ہے کہ وہ قانون بنائے۔پس فرمایا کہ ہم حق رکھتے ہیں کہ ہم قانون بنائیں کیونکہ ہم خالق و مالک ہیں۔اور جو خالق و مالک ہو وہ حق رکھتا ہے کہ اپنی مخلوق کے لئے قانون بنائے کیونکہ وہی مخلوق کی ضرورتوں کو جانتا ہے۔جس نے پیدا ہی نہیں کیا اُسے کیا معلوم کہ انسانی قلب میں کیا کیا جذبات اُٹھتے ہیں۔اوراسے کیا معلوم کہ کونسی باتیں اچھی ہیں اور کونسی بُری۔اس لئے یقیناً وہ غلط قانون بنائے گا جو لوگوں کی ٹھوکر کا موجب ہو گا۔پھر مفعول کے لحاظ سے بھی اس کے دو۲ معنیٰ ہیں۔ایک یہ کہ ہم نے اس حالت میں تجھے بھیجا ہے کہ تیرے ساتھ سچ ہے۔اگر انسانی تعلیم ہوتی تو اُس میں غلطی یا جھوٹ کا امکان ہوتا یا کوئی اور نقص ہوتا۔مگر جو تعلیم تیرے پاس ہے وہ ہر قسم کے نقائص سے پاک ہے اور جب وہ بالکل پاک ہے تو ماننا پڑے گا کہ وہ ہماری طرف سے ہے۔