تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 421
بحث ختم ہو کر اس کا پیچھا چُھوٹے۔سچے نبیوں کے مقابلہ میں ہمیشہ سے یہ طریق اختیار کیا جاتا رہا ہے جب اُن کے مخالفوں کو اُن سے بحث کرنے میں ندامت ہوئی ہے تو فوراً انہوں نے ایسے مطالبات پیش کر دیئے ہیں کہ جن کی نسبت اُن کو یقین تھا کہ ایک یا دوسری وجہ سے اُن کا پورا ہونا ناممکن ہے۔کبھی تو سنت اللہ کے خلاف کسی بات کا مطالبہ کر دیتے کبھی کسی دیر میں ہونے والی بات کو فوراً پورا کرنے کا مطالبہ کرتے۔کبھی ایسے امر کا مطالبہ کرتے جو خلافِ شان الٰہی ہوتا اور پھر علاوہ اس قسم کے مطالبات کے یہ جواب بھی دیا کرتے کہ اچھا ہم لوگ جھوٹے ہیں تو عذاب الٰہی کیوں نہیں آتا۔ہم پر عذاب الہٰی نازل ہو تب ہم مانیں گے ورنہ نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی اِس سلوک میں دوسرے نبیوں سے مستثنیٰ نہ تھے بلکہ جس قدر آپ کا درجہ بلند تھا اُسی قدر آپؐسے آپؐ کے دشمنوں نے زیادہ غیر معقولیت کے ساتھ معاملہ کیا۔جب اُن کو کوئی جواب نہ آتا تو قسم قسم کے سوال کرتے جن میں سے دو اس جگہ بیان کئے گئے ہیں۔ایک تو یہ کہ اگر سچے ہو تو خدا تعالیٰ ہم سے خود کلام کرے اور ہم سے کہے کہ یہ شخص سچا ہے اس کو مان لو۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے کبھی کسی نبی کے زمانہ میں یہ نہیں کیا کہ ملک کے ہر آدمی کو الہام ہوا ہو کہ فلاں شخص سچا ہے اسے مان لو۔یہ تو ہو جاتا ہے کہ بعض اشخاص کو خدا تعالیٰ رؤیا اور کشوف کے ذریعہ بتا دیتا ہے کہ یہ مامور سچا ہے مگر سب لوگوں کو بتانا اس کی سنت کے خلاف ہے اور جن کو بتاتا ہے اُن کی شہادت سے لوگ فائدہ نہیں اُٹھاتے بلکہ اُن پر بھی الزام لگا دیتے ہیں کہ یہ بھی منصوبوں میں شامل ہیں۔پھر سب کو الہام ہونا اس لئے بھی بے فائدہ ہے کہ ایمان تبھی مفیدہوتا ہے جبکہ وہ انسان کو کوشش سے حاصل ہو۔اگر خدا تعالیٰ کا کلام سب پر نازل ہو تو پھر ایمان کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔اور انسان کی پیدائش کی اصل غرض فوت ہو جاتی ہے اور دوسری مخلوق اور انسان میں کچھ فرق نہیں رہتا۔پس فرمایا کہ یہ لوگ سنت اللہ سے واقف نہیں اور نہیں جانتے کہ ایمان کس صورت میں نافع ہوتا ہے۔کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے کلام کرے۔حالانکہ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جو پہلے نبیوں سے بھی ہوتا رہا ہے جن کو یہ مانتے ہیں لیکن انہوں نے اسے پورا نہیں کیا۔پھر اس نظیر کے موجود ہوتے ہوئے اس رسول سے کیوں ایسا مطالبہ کرتے ہیں۔درحقیقت اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دل پہلے انبیاء کے منکرین کے دِلوں کے مشابہ ہو گئے ہیں۔دوسرا مطالبہ یہ بیان کیا کہ ہمیں کوئی آیت دکھائو۔اس کا جواب یہ دیا کہ ایسی آیات تو ہم دکھا چکے ہیں جن سے اگر کوئی فائدہ اٹھانے والا انسان ہو تو فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔لیکن جن لوگوں نے ضِد سے کام لینا ہو اور ہٹ پر قائم رہنا ہواُن کا کوئی علاج نہیں۔اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن کریم میں جہاں تو آیت کا لفظ اللہ تعالیٰ اور اُس کے انبیاء اور مومنوں