تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 420

طرف سے آیت کا مطالبہ کیا گیا ہے اُن پر غور کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہر جگہ آیت سے مراد عذاب ہی ہوتا ہے۔اس جگہ بھی یہی مراد ہے یا تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہم پر نازل ہوتا اور ہم اسے مان لیتے۔کیونکہ اگر یہ اس کا بندہ ہے تو ہم بھی اُسی کے بندے ہیں۔پھر اس میں اور ہم میں کیا فرق ہے۔اور اگر یہ کہو کہ تم اس کے بندے تو ہو مگر تم عذاب کے مستحق ہو تو ایسی صورت میں ہم پر عذاب نازل ہونا چاہیے۔گویا دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہونی چاہیے۔اگر ہم اُس کے بندے ہیں تو ہم پر بھی کلام نازل ہونا چاہیے اور اگر کہو کہ تم گندے ہو گئے ہو تو پھر ہمیں ہلاک کر دیناچاہیے۔لیکن اگر وہ ہمیں ہلاک بھی نہیں کرتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم گندے نہیںاس لئے ہم پر بھی کلام نازل ہونا چاہیے۔محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم) کو ہم پر کیا فضیلت حاصل ہے کہ صرف اُسی پر کلام نازل ہوتا ہے۔كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسی طرح اُن لوگوں نے بھی جو اِن سے پہلے گذرے ہیں کہا تھا اور بالکل اِن کی بات کے مشابہ کہا تھا۔اِس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کے مقابلہ میں ایک ہی قسم کے اعتراض ہوتے چلے آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب منہاجِ نبوت کا ذکر فرمایا کرتے تودشمن چِڑ جاتے اور کہتے کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کیوں نام لیتے ہو۔مولوی محمدعلی صاحب جو اُس وقت ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر تھے اِس کا یہ جواب دیا کرتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب انبیاء میں شامل ہیں۔پس اگر ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مثال نہ دیں تو اور کس کی دیں۔لیکن بعد میں وہی مولوی محمد علی صاحب کہنے لگے کہ مرزا صاحب نے نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔یہ نیا عقیدہ ہے جو قادیان والوں نے ایجاد کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ان کا اعتراض صحیح ہے تو پھر تمام انبیاء کی نبوتیں باطل ٹھہرتی ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا تھا کہ اُن کو الہام ہوتا ہے تو اس وقت اوروں کو الہام نہیں ہوا بلکہ صرف موسیٰ ؑ کو ہوا۔پھر باقی لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے یکدم تباہ بھی نہیں کیا۔ہاں حجت کے بعد وہ ہلاک ہوئے اور وہ بھی آہستہ آہستہ۔اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب الہام ہوا تو اُن کے زمانہ میں بھی باقی لوگوں کو الہام نہیں ہوا اور پھر باقی لوگوں کو یکدم تباہ بھی نہیں کیا گیا پس اگر یہ دلیل صحیح ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ ہم پر الہام نازل کرے اور اگر ہم الہام کے مستحق نہیں تو ہمیں تباہ کر دے تو اس دلیل کو پہلوں پر چسپاں کر کے دیکھ لو کہ کیا یہ صحیح قرار پاتی ہے یا غلط ؟ اور اگر تمہاری یہ دلیل پہلوں پر چسپاں نہیں ہوتی تو معلوم ہوا کہ تمہارا یہ مطالبہ منہاجِ نبوت کے خلاف ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب کسی شخص سے کوئی جواب بن نہ آئے تو وہ آگے سے ایسا عذر تلاش کرتا ہے جس پر