تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 419

خروج باب۴ آیت۲۲ میں آتا ہے۔’’اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میراپلوٹھا ہے۔‘‘ اس حوالہ کو مدّنظر رکھتے ہوئے تو خدا تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا حق حضرت مسیح ؑکی بجائے حضرت یعقوب علیہ السلام کو حاصل ہے کیونکہ وہ پلوٹھے ہیں اور حضرت مسیح بیٹے تھے۔پلوٹھے کے ہوتے ہوئے بیٹے کا کیا حق تھا کہ وہ جائیداد پر قبضہ کرتا۔غرض عہد عتیق اور عہد جدید دونوں کی رُو سے تمام مومن خدا کے فرزند ہیں۔حضرت مسیح ؑ کی اس میں کوئی تخصیص نہیں۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِيْنَاۤ اور وہ لوگ جو (خدا تعالیٰ کی حکمتوں کا )علم نہیں رکھتے۔کہتے ہیں کہ اللہ کیوں ہم سے (براہ راست ) بات نہیں کرتا اٰيَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ یا(کیوں)ہمارے پاس کوئی نشان (نہیں ) آتا؟اسی طرح (بالکل) انہی کی سی بات (وہ بھی) کہا کرتے تھے جو تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَيَّنَّا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ۰۰۱۱۹ ان سے پہلے (زمانہ کے)لوگ تھے۔ان سب کے دل ہمرنگ ہوگئے ہیں۔ہم تو ایسے لوگوں کے لئے جو یقین لے آتے ہیں ہر طرح کے نشانات کھول کر بیان کر چکے ہیں (مگر یہ لوگ مانتےنہیں)۔تفسیر۔بعض لوگ اپنی نادانی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بغیر کسی حکمت کے یونہی ایک شخص کو نبی بنا کربھیج دیتا ہے اور وہ انتخاب میں کسی اہلیت کو مدنظر نہیں رکھتااور پھر اس غلط خیال کے نتیجے میں یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں براہ راست کیوں حکم نہیں دے دیتا کہ ایسا کرو۔اور ایسا نہ کرو۔تاکہ کوئی جھگڑا ہی پیدا نہ ہو۔آخر اس کی کوئی وجہ ہونی چاہیے کہ وہ ہم سے کیوں کلام نہیں کرتا اور اگر ہم اس بات کے مستحق نہیں کہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ باتیں کرے تو کم از کم یہ تو ہوناچاہیے تھا کہ کوئی دلیل ہی مہیا کر دی جاتی جس کی وجہ سے ہم اسے مجبوراً مان لیتے۔میری تحقیق یہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں بھی کفار کے آیت طلب کرنے کا ذکر آتاہے وہاں اس سے مراد ہمیشہ عذاب ہی ہوتا ہے۔بشرطیکہ اُس کےخلاف وہاں کوئی قرینہ موجود نہ ہو۔چنانچہ وہ تمام مقامات جہاں کفار کی