تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 38
کے ایک طرف سمندر تھا اور ایک طرف وہ چھوٹی چھوٹی جھیلیں جو سمندر کے کنارے پر واقع تھیں۔اور جیسا کہ قاعدہ ہے درمیان میں گزرنے والوں کو وہ اٹھی ہوئی نظر آتی تھیں۔چنانچہ بحیرہ احمر کے نقشہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کنارہ پر بہت سی جھیلیں ہیں جو پرانے زمانہ میں اَور بھی زیادہ تھیں۔جیسا کہ پرانے نقشہ جات سے ثابت ہے۔آیت وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ … الخ کے متعلق سابق مفسرین کے خیالات جو معنے اِس آیت کے میرے نزدیک ہیں انہیں لکھنے کے بعد مَیں سابق مفسّرین کے خیالات بھی لکھ دینے مناسب سمجھتا ہوں۔سابق مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ ؑنے نیل کا دریا پار کیا تھا۔اور اس معجزہ کے بارہ میں انکا مزید خیال یہ ہے کہ دریا بار ہ جگہ سے پھٹ گیا تھا۔یہ استدلال وہ سورہ شعراء کی آیت فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ(الشعراء:۶۴) سے کرتے ہیں۔ان بارہ ٹکڑوں سے اُن کے نزدیک یہ فائدہ تھا کہ بارہ قبائل الگ الگ گزر جائیں۔اِس بارہ میں انہوں نے اس قدر زور دیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ دریا میں سے گزرنے لگے تو چونکہ ہردو فریق کے درمیان پانی کی دیوار حائل تھی۔بنی اسرائیل نے دریا میں سے گزرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک دوسرے گروہ ہم کو نظر نہ آئیں گے ہم دریا میں سے نہ گزریں گے۔آخر موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی اور خدا تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ پانی کی دیوار میںسونٹا داخل کرو۔انہوں نے اسی طرح کیا اور دیوار میں سوراخ ہو گیا۔اور وہ سب ایک دوسرے کی آوازیں سننے لگے اور صورتیں دیکھنے لگے۔(کشّاف زیر آیت ھذا و شعراء ۶۳) گویا پانی اس طرح بستہ ہو گیا تھا کہ اس میں قائم رہنے والا سوراخ ہو سکتا تھا۔اور پھر موسیٰ کا سونٹا اس قدر لمبا ہو گیا کہ وہ بارہ سڑکیں جس پر یہود کے بارہ قبیلے گزر رہے تھے۔اُن سب کو ایک ہی وار میں وہ سونٹا چِیر گیا۔اور سب میں ایک ہی وقت میں سوراخ کر گیا۔اِس سوال پر کسی مفسر نے روشنی نہیں ڈالی کہ جن بنی اسرائیل میں اِس قدر محبت تھی کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر چین نہ پاتے تھے اور ایک دوسرے کے متعلق تسلی پائے بغیر موسیٰ جیسے نبی کے ساتھ بھی دریا پار ہونے کے لئے تیار نہ تھے۔اُن کے لئے بارہ راستے الگ الگ کیوں بنائے گئے تھے؟وہ ایک ہی راستہ پر سے سب کے سب کیوں نہ گزر سکتے تھے؟ جس پانی سے حضرت موسیٰ اپنی قوم کو لے کر گزرے وہ نیل کا پانی نہیں تھا اصل بات یہ ہے کہ مفسرین ایک خطرناک غلطی میں مبتلا ہوئے ہیں کہ وہ اس پانی کو جس میں سے موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر گزرے تھے نیل کا پانی سمجھتے ہیں لیکن یہ امر واقعات سے درست ثابت نہیں ہوتا۔تاریخ اور آثار قدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں جیسا کہ آج کل بھی ہے۔صدر مقام کی آبادی نِیل کے مشرق کی